پیغمبر اسلام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۲
نے انسانیت کو لا فانی حیثیت کے حامل عظیم ترین حقائق سے باخبر کیا۔ محمد خود تو آن پڑھ تھے، لیکن وہ اتنی فصاحت کا او ر جوش سے بولتے تھے کہ لوگ بے اختیار رو پڑتے تھے۔ اگر چہ محمد یتیم اور دنیا کی و ولتوں سے محروم پیدا ہوئے تھے، لیکن پھر بھی سب ان سے محبت کرتے تھے۔ انھوں نے کسی فوجی کالج میں تعلیم نہیں حاصل کی تھی، لیکن پھر بھی بڑی بڑی مشکلات پر قابو پا کر انھوں نے اپنی فوجوں کو منظم کیا اور اپنی ماہرانہ اخلاقی قوتوں کے بل پر جنگیں جیت لیں۔ خوبیوں سے بھر پور ایسے لوگ بہت نادر ہیں جن میں دوسروں کو بھی دعوت دینے کا ملکہ ہو۔ ڈیکارٹ نے کہا ہے کہ مکمل داعی دنیا کی سب سے نادر مخلوقات میں سے ایک ہے۔ ہٹلر نے بھی اپنی سوانح عمری "میری جدوجہد" میں اسی قسم کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے: ایک عظیم نظریہ ساز شاذ و نادر ہی ایک عظیم قائد ہوتا ہے۔ احتجاجی لیڈر ان خوبیوں اور بھی کم حامل ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایسا آدمی بہتر لیڈر ہو کیوں کہ قیادت کے لئے عوام کو حرکت میں لانے کی خصوصیت ضروری ہے۔ افکار پیدا کرنے کی صلاحیت، قائدانہ صلاحیت کے ساتھ کوئی قدر مشترک نہیں رکھتی۔ پیغمبر اسلام کی ذات میں دنیا نے اس نادر تریں مظہر کو بھی حقیقی وجود کی صورت میں دیکھ لیا۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات وہ ہے جس کا اظہار پر وفیسر با سورتھ اسمتھ نے کیا ہے: "وہ ریاست اور چرچ (دینی تنظیم) دونوں کے سر براہ تھے، وہ ایک ساتھ پوپ اور قیصر دونوں تھے۔ لیکن وہ ایسے پوپ تھے، جو پوپ کے دعووں سے خالی تھا۔ وہ ایسے قیصر تھے جو قیصر کی فوجوں کے بغیر تھا۔ نہ ان کے پاس ہر وقت تیار کھڑی رہنے والی فوج تھی، نہ ذاتی حفاظتی کارکن، نہ ہی محل، نہ ہی کوئی مقررہ ٹیکس کی آمدنی۔ اگر کسی کو بھی یہ دعویٰ کرنے کا حق ہو کہ اس نے خدائی حق کے ذریعہ حکومت کی ہے، تو وہ محمد ہی ہوں گے، کیوں کہ ان کے پاس تمام اختیارات تھے، لیکن ان تمام ذرائع دو سائل کے بغیر جن سے وہ اختیارات حاصل کئے جاتے ہیں اور باقی رکھے جاتے ہیں۔ انھوں نے طاقت کے نمائش اور رکھ رکھاؤ کا کبھی خیال نہیں کیا۔ ان کی نجی زندگی کی سادگی ویسی ہی تھی جیسی ان کی عام زندگی۔"
مکہ فتح ہونے کے بعد ایک ملین مربع میل سے زیادہ زمین ان کے قدموں کے نیچے آگئی۔ پورے جزیرہ عرب کا حکمران ہونے کے باوجود وہ اپنے جوتے اور کھڑدرے ادنی کپڑے خود ٹھیک کرتے تھے۔ بکریوں کو دوہتے تھے۔ زمین کو جھاڑ دیتے تھے۔ آگ جلاتے تھے اور خاندان کے چھوٹے چھوٹے کام کرتے تھے۔ مدینہ کا پورا شہر، جہاں آپ رہتے تھے، آپ کے آخری دنوں میں بہت مال دار ہوگیا تھا۔ ہر جگہ وہاں سیم وزر کی فراوانی تھی۔ لیکن خوش حالی کے ان دنوں میں بھی کئی کئی ہفتے اس طرح گزرتے تھے کہ جزیرہ عرب کے حکمران کے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ ان کا سارا کھانا ان دنوں میں پانی اور کھجور ہوتی تھی۔ پورا خاندان بہت سی راتوں کو بھوکا سوتا تھا کیوں کہ شام کو انھیں کھانے کو کچھ بھی میسر نہ ہو سکا تھا۔ ایک لمبے مشغول دن کے بعد وہ کسی نرم بستر پر نہیں سوتے تھے، بلکہ کھجور کے پتے کی بنی ہوئی چٹائی پر۔ راتوں کو وہ اکثر ردو کر اپنے ذاتی سے دعا کرتے تھے کہ انھیں اپنے مشن کو پورا کرنے کی طاقت عطا فرمائے۔ روایتوں میں آیا ہے کہ ان کی آواز رونے کی وجہ سے ایسی ہو جاتی تھی جیسے کوئی بتیلی آگ پر ہو اور اس کا ابلا نشر شروع ہو گیا ہو۔ ان کی موت کے دن ان کا سارا اثاثہ چند سکے تھے، جس کا کچھ حصہ قرضہ ادا کرنے کے لئے دے دیا گیا اور باقی ایک غریب کو دے دیا گیا جوان کے گھر خیرات مانگنے آیا تھا۔ جس کپڑے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues