پیغمبر اسلام
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۳۳
میں اُن کی زندگی تمام ہوئی اس میں بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے۔ وہ گھر، جس سے ساری دنیا میں روشنی پھیلی، تاریک تھا کیوں کہ اس کے پاس دیا جلانے کے لئے تیل نہیں تھا۔ حالات بدل گئے، لیکن اللہ کے پیغمبر نہیں بدلے۔ جیت میں اور ہار میں، حکمرانی میں یا بدحالی میں، فراوانی میں یا محتاجی میں وہ ایک ہی آدمی تھے۔ ہر حال میں ان کا سلوک ایک ہی تھا۔ جس طرح اللہ پاک کے طریقے اور قوانین ایک ہیں اسی طرح سے اللہ کے انبیاء بھی بدلنے والے نہیں ہوتے۔
ایک ضرب المثل میں کہا گیا ہے کہ امانت دار آدمی اللہ کی بہترین مخلوق ہے۔ محمد ﷺ امانت دار سے بھی کچھ زیادہ تھے ان کے پور پور میں انسانیت رچی بسی ہوئی تھی۔ انسانی ہمدردی ، انسان دوستی ان کی روح کی موسیقی تھی۔ ان کا مشن ہی یہ تھا کہ انسان کی خدمت کی جائے۔ انسان کو بلند کیا جائے، پاک کیا جائے، تعلیم دی جائے۔ دوسرے لفظوں میں انسان کو انسان بنایا جائے۔ یہی ان کی زندگی کا سارا مدعا تھا۔ ان کے خیالات، الفاظ اور اعمال سب کا مقصد انسانیت کی بہتری تھی۔ دکھاوا ان میں بالکل نہیں تھا اور وہ انتہائی حد تک بے غرض تھے۔ انھوں نے اپنے لئے کون سے ٹائٹل چنے ؟ صرف دو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔ پہلے بندہ پھر رسول۔ وہ اُسی طرح پیغمبر تھے، جس طرح دوسرے بہت سے پیغمبر تھے جو دنیا کے مختلف حصوں میں آچکے ہیں، جن میں بعضوں کو ہم جانتے تھے اور بعض دوسرے ہمارے لئے نا معلوم ہیں۔ اگر کوئی ان حقائق پر ایمان نہیں رکھتا ہے تو وہ مسلم نہیں باقی رہتا۔ اس بات پر ایمان ہر مسلم کے عقیدہ کا جز رہے۔ ایک یورپین مؤلف نے لکھا ہے: " ان کے زمانے کے حالات اور ان کے پیروؤں کا آپ پر انتہائی حد تک اعتقاد کو دیکھتے ہوئے سب سے بڑی معجزانہ بات یہ ہے کہ محمد نے کبھی معجزات پر قادر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا؛ محمد سے معجزے بھی ہوئے، لیکن ان کا مقصد اپنے دین کا پروپیگنڈہ کرنا نہ تھا بلکہ انھوں نے ان معجزات کو صرف اللہ سے اور اللہ کے فہم و ادراک سے بالا طریقہ کار سے منسوب کیا۔ وہ صاف کہتے تھے کہ دوسروں کی طرح وہ بھی ایک عام آدمی ہیں۔ وہ زمین و آسمان کے خزانوں کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے، نہ ہی وہ غیب کو جاننے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ سب اس وقت ہوا جب معجزات کو عام بات سمجھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی بھی مقدس شخص چٹکیوں میں معجزات لاسکتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جزیرہ عرب کے اندر اور باہر ہر جگہ مافوق الفطرت عقائد کی حکمرانی تھی۔ انھوں نے اپنے پیروؤں کی توجہ فطرت اور فطری قوانین پر غور کرنے کے لئے دلائی، تاکہ وہ اللہ کی عظمت کو صحیح طرح سے سمجھ سکیں۔ قرآن کا کہتا ہے: آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ہم نے کھیل کے طور پر نہیں بنایا۔ ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے ( دخان ۳۹ - ۳۸ )
دنیا کوئی دابمہ نہیں ہے، نہ ہی دنیا بلا مقصد پیدا کی گئی ہے۔ دنیا بر حق پیدا کی گئی ہے۔ قرآن کی وہ آیات جو فطرت کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتی ہیں وہ نماز، روزہ، حج وغیرہ کے بارے میں حکم دینے والی آیات کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہیں۔ قرآن کے اثر کے تحت مسلمانوں نے فطرت کا عمیق مطالعہ شروع کیا ، اور اسی وجہ سے سائنسی مطالعہ اور تجربہ کا وہ مزاج پیدا ہوا جو کہ یونانیوں کے یہاں معدوم تھا۔ جبکہ مسلم ماہرِ نباتات ابن بیطار نے (علم نباتات) پر ساری دنیا کے پودے جمع کرکے ایک ایسی کتاب لکھی جس کو میئر (Mayer) نے اپنی کتاب (Gesch der Botanika) میں "محنت کا مینار" بتایا ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues