چھت کے لئے فرش
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳
چھت کے لئے فرش
ایک شخص کا قول ہے کہ سر کے اوپر چھت ہونے کے لئے ضروری ہے کہ تمہارے پیروں کے نیچے ایک فرش موجود ہو:
To have a roof over your head you need a floor under your feet چھت اوپر ہوتی ہے مگر وہ ہمیشہ نیچے کے فرش کے اوپر کھڑی ہوتی ہے۔ آکر فرش نہ ہو تو چھت کھڑی کرنا بھی ممکن نہیں۔ یہی معاملہ زندگی کا ہے۔ آپ کو پہلے نیچے کی زمین تیار کرنی ہوگی، اس کے بعد ہی آپ اوپر کی ترقیوں کے مالک بن سکتے ہیں۔
فرینکلن کا قول ہے "ٹوٹی ہوئی کشتی کو ساحل کے قریب ہی رہنا چاہئے"۔ اگر آدمی اس حقیقت کا لحاظ نہ کرے کہ اس کی کشتی ٹوٹی ہوئی ہے اور جوش میں اگر اپنی کشتی کو بیچ سمندر میں ڈال دے تو ایسا جوش ہمیشہ الٹا پڑے گا۔ وہ اس کی کشتی کو بھی ڈبائے گا اور خود اس کو بھی۔ اگر آپ کی کشتی ٹوٹی ہوئی ہے تو آپ یا تو ساحل پر رہے جہاں پانی بھی کم ہوتا ہے اور خطرہ کے وقت بچاؤ کی تدبیر بھی قریب ہی مل جاتی ہے۔ اور اگر آپ ساحل پر رہنے پر قانع نہیں ہیں تو پہلے اپنی کشتی کو درست کیجئے۔ ایسی حالت میں آپ کے عمل کا آغاز لازماً کشتی کو درست کرنے سے ہونا چاہئے نہ کہ ساحل کو چھوڑ کر پانی کے منجدھار میں داخل ہو جانے سے۔
اس اصول کا تعلق زندگی کے ہر معاملے سے ہے۔ اگر آپ ایک مکان بنانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کے پاس تعمیر کا ضروری سامان ہونا چاہئے۔ اگر آپ کسی زبان میں ایک اخبار نکالنا چاہتے ہیں تو اس زبان میں اخبار پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہونی چاہئے۔ اگر آپ الکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو آپ کے حلقہ انتخاب میں ایسے ووٹر ہونے چاہئیں جو آپ کو ووٹ دیں۔ ابتدائی بنیاد کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کیا جاسکتا، خواہ وہ فرد سے متعلق ہو یا قوم سے متعلق۔
ایک پرانی کہاوت ہے "خود کو بدل دو، قسمت اپنے آپ بدل جائے گی" اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبت کا سبب آدمی کے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر۔ آدمی اگر سوچے کہ جو مسئلہ پیدا ہوا ہے اس کا اصلی سبب کہاں ہے تو معلوم ہوگا کہ اُس کا سبب اس کی اپنی کوتاہی ہے۔ جب ناکامی کا اصل سبب اپنی کوتاہی ہے تو دوسرے کے خلاف شور و غل کرنے سے کیوں کر ایسا ہو سکتا ہے کہ ناکامی کامیابی میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues