حواس نہ کھوئیے
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۴
تبدیل ہوجائے۔
ایک شخص نے دکان کھولی۔ اس کی دکان چلی نہیں۔ یہاں تک کہ دیوالیہ پن کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ ایک روز اس کے دوست نے کہا تمھاری دکان اس لیے نہیں چل رہی ہے کہ تمھارے گاہکوں کو پاس کا دکان دار توڑ لیتا ہے، یہ سن کر دکان دار بولا تم غلط کہتے ہو، میرے گاہک کو دوسرا دکان دار توڑتا ہے تو میں دوسرے دکان دار کے گاہک کو کیوں نہیں توڑلیتا، دکان دار نے معاملہ کو گہرائی کے ساتھ دیکھا وہ سوچنے لگا کہ آخر میری ناکامی کا بنیادی سبب کر لیا ہے۔ وہ اس رائے پر پہنچا کہ اس کی ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ گاہکوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے بات نہیں کرتا۔ اس نے طے کیا کہ وہ اپنی اس کمزوری کو دور کرے گا۔
اس نے اپنے اوپر قابو پانا شروع کیا۔ اب کوئی گاہک اس کی دکان پر آتا تو وہ نہایت میٹھے انداز میں بولنے کی کوشش کرتا۔ دھیرے دھیرے اس کا بولنے کا انداز بدل گیا اور اسی کے ساتھ اس کی دکان کی حالت بھی۔ اس نے جب یہ کیا کہ اپنے انور کی بنیادی کمزوری دور کرلی تو بقیہ کمیاں اپنے آپ دور ہوتی چلی گئیں۔
حواس نہ کھوئیے
اعتماد زندگی ہے اور بے اعتمادی موت پرم ہنس کے اس قول کی تشریح ملکہ برطانیہ کے ایک واقعہ سے بہت اچھی طرح ہوتی ہے۔
لندن میں بکنگھم پیلیس ملکہ الزبتھ کی شاہی قیام گاہ ہے۔ ۱۳ جولائی ۱۹۸۲ کو یہ واقعہ ہوا کہ ایک اجنبی شخص ملکہ برطانیہ کے سونے کے کمرے میں گھس گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹوٹی ہوئی ایش ٹرے تھی۔ جو دھار دار آلے کا کام کر سکتی تھی۔ یہ امکانی طور پر ایک خطرناک ہتھیار تھا۔ ملکہ نے جب اچانک ایک غیر شخص کو ایسی حالت میں کمرے میں پایا تو ان کو خطرہ کا احساس ہوا۔ ملکہ کا ہاتھ فوراً مخصوص بٹن پر پہنچ گیا۔ یہ محل کی ایک خاص گھنٹی ہے جو خطرہ کے وقت حفاظتی عملہ کو خبر دار کرنے کے لئے بجائی جاتی ہے۔ ملکہ نے بٹن بار بار دبائی مگر گھنٹی خاموش تھی کسی سبب سے وہ بج نہ سکی۔
یہ بڑا نازک لمحہ تھا۔ ملکہ ایک تنہا خاتون کی حیثیت سے کمرے میں تھیں۔ دوسری طرف ایک طاقت در مرد دھار دار آلے لئے کھڑا تھا۔ ملکہ اگر آنے والے آدمی پر بگڑ جاتیں یا اس کو نکل جانے کا زبانی حکم دیتیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues