حواس نہ کھوئیے
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۵
تو وہ فوراً غصہ میں آکر ٹوٹ پڑتا اور ملکہ کا کام تمام کر دیتا۔ مگر ملکہ نے حاضر دماغی کام لیا۔ انھوں نے اپنی قوتوں کو سنبھالا اور آنے والے آدمی سے نرمی کے انداز میں بات شروع کر دی ۔ ملکہ نے اجنبی آدمی کو سگریٹ پیش کی اور اپنی ٹھنڈی باتوں سے اس کی توجہ دوسری طرف موڑ دی۔ انھوں نے نہ تو آدمی کو برا بھلا کہا اور نہ محل کے اندر بلا اجازت گھس آنے پر کوئی تنبیہ کی۔ اس طرح انھوں نے اجنبی آدمی کو دس منٹ تک ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول رکھا۔ اتنی دیر میں محل کے حفاظتی آدمی پہنچ گئے اور مذکورہ شخص گرفتار کر لیا گیا۔
ملکہ برطانیہ کی خود اعتمادی نے ان کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا۔ اگر وہ اعتماد کھو دیتیں تو شاید اگلے دن برطانی قوم اپنی ملکہ کا ماتمی دن منانے کی تیاریاں کر رہی ہوتی۔
نازک وقت میں اپنے اعتماد کو بحال رکھنا اور اپنے دماغ کو حاضر رکھنا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ خطرہ کے وقت گھبرا اٹھنا اپنے معاملہ کو خود اپنے ہاتھوں بگاڑ لینا ہے۔ آدمی اگر حوصلہ نہ کھوئے اور اپنے ہوش و حواس کو درست رکھے تو یقیناً وہ بچ جائے گا۔ اس کا دماغ ایسی تدبیر ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس کو خطرے کے کنارے سے پہنچ کر بھی خطرہ سے بچا لے۔
ڈاکٹر ہیو گو کا قول ہے کہ احتیاط دانش مندی کی سب سے ہو نہار اولاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بہت سی کامیابیوں کا تعلق محتاط عمل میں ہے نہ کہ پر جوش اقدام میں۔ عقل مندی کے بہت سے پہلو ہیں اور اس میں شک نہیں کہ احتیاط اکثر اوقات سب سے بڑی عقل مندی ہوتی ہے۔ مگر احتیاط کے طریقہ پر پوری طرح وہی شخص عمل کر سکتا ہے جو حالات کی شدت کے باوجود اپنے حواس کو بحال رکھے جو کسی بھی صورت میں مغلوب الحال نہ ہو جائے۔
جب بھی آدمی کے ساتھ کوئی خلاف امید صورت پیش آتی ہے یا وہ کسی خطرہ میں گھر جاتا ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بے سوچی سمجھی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ اس قسم کی کارروائی آدمی کو مزید بربادی کے سوا کسی انجام تک نہیں پہنچاتی۔ اگر آدمی ہمت نہ ہارے اور گھبرائے بغیر اپنے عمل کا نقشہ بنائے تو وہ ہر مشکل صورت حال سے بآسانی باہر آ سکتا ہے۔ حتی کہ شیکسپیئر (۱۹۱۶ - ۱۵۰) کے الفاظ میں اکثر اوقات وہ مسکراہٹ سے وہ چیز حاصل کرے گا جس کو وہ تلوار کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues