Al-Risala · November 1982 · page 8

یہود کے نقش قدم پر

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۸

اوپر جس حقیقت کا ذکر کیا گیا، وہ کوئی انوکھی یا غیر معلوم بات نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ اور دینی تعلیمات میں بالکل واضح ہے۔ اس کے باوجود ہمارے رہنما اور مفکرین کیوں اس کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ردعمل کی نفسیات نے لوگوں کا ذہنی شاکلہ بگاڑ دیا ہے، اور آدمی کسی بات کو اپنے ذہنی شاکلہ ہی کے مطابق سمجھ پاتا ہے۔ اگر آدمی کا ذہنی شاکلہ مختلف ہو تو وہ کسی طرح اصل بات کو سمجھ نہیں سکتا۔ یہاں ہم اس کی ایک مثال پیش کریں گے۔

ایک مشہور مفکر اسلام نے سورہ بنی اسرائیل (آیت ۵) کی تفسیر کے تحت ایک لمبا نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ یہود کے بگاڑ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہودیہ کے لوگ بت پرستی اور بد اخلاقیوں سے باز نہ آئے تو ۵۹۸ قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت یہودیہ کو مسخر کر لیا اور یہودیہ کا بادشاہ اس کے پاس قیدی بن کر رہا۔ یہودیوں کی بداعمالیوں کا سلسلہ اس پر بھی ختم نہ ہوا اور حضرت یرمیاہ کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔

اوپر کے اقتباس کے آخری جملہ پر غور کیجیے۔ موصوف کے الفاظ کے مطابق یہ بداعمالی کی ایک قسم ہے کہ غالب حکومت کے خلاف سیاسی جہاد کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے گویا انھوں نے ہماری مذکورہ بات کی صداقت کو مزید شدید تر الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے۔ مگر یہی وہ مصنف اور مفکر ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں اس نظریہ کی پرزور وکالت کی کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے نیا دور لانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکمرانوں سے تصادم کر کے ان کو تخت سے بے دخل کیا جائے اور خود اپنی طویل عمر کے تمام بہترین سال انھوں نے اسی قسم کے سیاسی جہاد میں گزار دئے۔ حقیقت کے اس قدر قریب پہنچ کر بھی حقیقت سے اس قدر بے خبر رہنے کی وجہ صرف شاکلہ کا فرق ہے۔ آدمی ایک آیت کے مطالعہ کے ذیل میں تاریخ انبیاء کے مذکورہ واقعہ کو پڑھتا ہے۔ وہ اس کے علم میں آتی ہے۔ مگر چونکہ اس کا ذہنی شاکلہ مختلف ہے اس لئے یہ حقیقت اس کے ذہن کا جز نہیں بنتی، وہ اس کی فکر کی تشکیل میں مؤثر ثابت نہیں ہوتی ــــ ہدایت کے راستہ کو پانے کی اہم ترین شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے مصنوعی شاکلہ کو توڑے اور فطرت کے حقیقی شاکلہ کے مطابق چیزوں کو دیکھے۔ اس کے بغیر کوئی شخص ہدایت کے ابدی راستہ کو نہیں پا سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page