یہود کے نقش قدم پر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۷
سابق حاملین کتاب (یہود) کی یہ تاریخ موجودہ حاملین کتاب (مسلمان) پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ مسلمان پچھلے ہزار برس تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ کمزوریوں کا شکار ہوئے ۔ ان کے افراد میں اعلیٰ کردار باقی نہ رہا۔ وہ محنت کے بجائے عیش کے عادی ہو گئے۔ باہمی اختلافات نے ان کو پے شمار گروہوں میں بانٹ دیا۔ علم اور تہذیب کی ترقی میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ اس قسم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر مسلم قو میں ان کے اوپر غالب آگئیں۔ مسلمانوں کی عظمت ہر جگہ پامال کر کے رکھ دی گئی۔
یہ واقعہ انیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ بیسویں صدی عیسوی اس صورت حال کے خلاف جد و جہد کی صدی ہے۔ مگر یہاں بھی عملاً وہی ہوا جو ڈھائی ہزار سال پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اب کچھ اللہ کے بندے اٹھے جنھوں نے مسلمانوں سے یہ کہا کہ پہلے اپنے آپ کو مستحکم بناؤ۔ غالب قوتوں سے تصادم کے بغیر اصلاحی میدان میں اپنی کوششیں صرف کرو جواب بھی تمھارے لئے کھلا ہوا ہے ۔ مگر مسلمانوں نے ایسے مصلحین کی بات بالکل نہیں سنی۔ ان کو انھوں نے بزدل، سامراج کا ایجنٹ اور انقلاب اسلام کا دشمن قرار دیا۔
دوسری طرف بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ اٹھے جو جہاد اور انقلاب کی باتیں کرتے تھے۔ انھوں نے جذباتی تقریریں کیں ۔ رومانی اشعار سنائے۔ خوبصورت نظریے پیش کئے ۔ مبالغہ آمیز قسم کی امیدیں دلائیں۔ مسلمان ایسے لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑے ۔ وہ ہر جگہ دوسری قوموں کے خلاف سیاسی ٹکراؤ اور انقلابی جہاد میں مشغول ہو گئے ۔
بائبل کے الفاظ میں اس جھوٹی نبوت کا نتیجہ وہی ہوا جو یہودیوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہر محاذ پر شکست کھائی ۔ ان کی بڑی بڑی تحریکیں اس طرح فنا ہو گئیں جیسے وہ ایک تنکا تھا جو ہواؤں کے طوفان میں اڑ گیا ۔ ان کے مفکروں اور رہنماؤں کے بولے ہوئے شان دار الفاظ کاغذ کی کشتی ثابت ہوئے جو دریا کی موجوں میں ایک منٹ بھی کسی مسافر کے کام نہیں آتی ۔
ان مسلم رہنماؤں کی مقبولیت کا راز یہ تھا کہ وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے۔ وہ حق کے ترجمان نہ تھے بلکہ عوامی جذبات کے ترجمان تھے۔ اور جو لوگ اس قسم کی بے حقیقت چیزوں کے اوپر کھڑے ہوں ان کا انجام حقیقت کی اس دنیا میں وہی ہے جو ان رہنماؤں کا ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues