تزئین شیطان
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۴
تزئین شیطان
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (15:39) ۔ یعنی ابلیس نے کہا، اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے اسی طرح میں زمین میں ان کے لیے مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کر دوں گا۔ یہ تزئینِ شیطان کیا ہے۔ تزئین کا مطلب ہے سجانا، آراستہ کرنا، مزین کرنا (to beautify) ۔
تزئینِ شیطان یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک ایسے گول کی طرف لگادے، جس کا حصول ممکن نہ ہو۔ یعنی غیر مطلوب کام میں انسان کو الجھادے۔ انسان اس کے پیچھے صرف اس سوچ کی بنیاد پر لگ جائے کہ وہ بہت اہم کام ہے۔ اگر چہ وہ نتیجہ خیز کام نہ ہو۔ اس کو آج کی زبان میں شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی جس پر زور دینا چاہیے، اس پر زور نہ دینا۔ اس کے بجائے اس پر زور دینا جو غیر مطلوب ہے یا جو قابل عمل نہ ہو۔ یہی شیطان کا فریب ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ آپ نے کہا: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا، وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 17856) ۔ یعنی اے لوگو، تم ہر گز نہیں کر سکتے، اور نہ طاقت رکھتے ہو، وہ سب کچھ کرنے کا جس کا تم کو حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم اعتدال پر قائم رہو، اور ہمیشہ اللہ سے اچھی امیدیں رکھو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کام قابلِ حصول یا نتیجہ رخی ہے، اس کو اختیار کرو، اور جو کام نا قابلِ حصول یا کاؤنٹر پروڈکٹیو ہو، اس کو اختیار نہ کرو۔ مثلاً دین کی اسپرٹ (تقویٰ، محبت الہی، معرفت خداوندی، اخلاق، وغیرہ) پر اگر زور دیا جائے تو اس سے اختلاف پیدا نہیں ہوتا ہے، لیکن فارم (آمین بالجہر، رفع الیدین، تراویح کی رکعتیں، وغیرہ) پر زور دیا جائے تو نزاع پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح حکومتِ الہیہ کے معاملے کو لیجیے۔ آپ فرد کی تربیت پر زور دیں تو یہ ممکن عمل ہے، لیکن اگر آپ اس کے برعکس یہ کریں کہ موجودہ حکومت کو غیر اسلامی قرار دے کر ایک اسلامی حکومت لانے کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues