تزئین شیطان
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۵
کوشش کریں تو یہ ایسا عمل ہے، جس کا حصول ممکن نہیں۔ یہ دیکھنے میں بہ ظاہر اچھا لگتا ہے، لیکن یہ بے نتیجہ عمل ہے، اور آپس میں نزاع (conflict) پیدا کر دیتا ہے۔
شیطان تزئین کا کام کس طرح کرتا ہے۔ اُس کا جواب 'اغواء' کے لفظ میں موجود ہے، جس کو ابلیس نے خدا کو چیلنج کرتے ہوئے استعمال کیا تھا۔ اغواء کا لفظی مطلب انحراف (deviation) ہے۔ یہی ابلیس کا طریقہ ہے، یعنی انسان کی توجہ کو پھیرنا (distraction)۔ اس کوشش میں اُس کا انحصار تزئین پر ہوتا ہے۔ مثلاً ابلیس نے اپنی تزئین کے ذریعے مسلمانوں کو غیر دعوتی کاموں کی طرف متوجہ کر دیا، یعنی اسلامی حکومت کا حصول، وغیرہ۔ اس بنا پر دعوتی عمل مسلمانوں کی مین اسٹریم میں داخل نہ ہو سکا۔ شیطان کی تزئین سے بچاؤ کا ذریعہ دانش مندی کے ساتھ پلاننگ کرنا ہے۔ دانش مندی کیا ہے۔ دراصل فطرت کے قوانین کی پابندی کرنے کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزوں کو متاثر ذہن (conditioned mind) کے ساتھ دیکھنے کے بجائے اس معاملے میں سوچنا اور تجزیہ کرنا، اس کے بعد کوئی عمل کرنا۔ یعنی دانش مند آدمی کسی بھی بات کو ایزاٹ از (as it is) نہیں قبول کرتا، بلکہ وہ اس کو دیکھتا ہے، اس میں غور وفکر کرتا ہے، معاملے کی اسکروٹنی (scrutiny) کرتا ہے، پھر وہ اس کو قبول کرتا ہے یا رد (reject) کرتا ہے۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ کسی کی فریب کا شکار ہونے سے بچ جائے۔ اس بنا پر وہ اپنے آپ کو غیر ضروری مسائل سے بچا لیتا ہے۔
جو آدمی اس معنی میں دانش مند ہو، وہ ایک ناقابل تسخیر انسان بن جاتا ہے۔ وہ ان کمزوریوں سے پاک ہوتا ہے، جو کسی انسان کو کمزور شخصیت (weak personality) بنانے والی ہیں۔ وہ جذباتیت کا شکار نہیں ہوتا۔ اس بنا پر وہ اپنے آپ کو اس سے بچا لیتا ہے کہ شیطان اس کو اپنی تزئینات کا شکار کرے، اور تباہی کے راستے پر چلا دے۔ عقل مند انسان وہ ہے، جو مسائل (problems) میں الجھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے امکان (opportunity) تلاش کرے، اور اس کو اوویل (avail) کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues