پیرویِ اسلام ، تنفیذِ اسلام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۶
پیرویِ اسلام ، تنفیذِ اسلام
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانے میں امت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا : تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمُ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ (مؤطا امام مالک، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی میں نے تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، تم گمراہ نہ ہوگے، جب تک ان دونوں کو پکڑے رہو گے۔ وہ اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے۔ اس حدیث میں تمسک کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تمسک کا مطلب ہے مضبوطی سے پکڑنا (holding fast)۔ یہ گریز کی اصطلاح فعل لازم (intransitive verb) ہے۔ یہی امت کے افراد کی اصل ذمے داری ہے۔ امت محمدی کے ہر فرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ دین کو دریافت کرے، وہ مطالعہ اور تدبر کے ذریعے اپنی معرفت میں اضافہ کرے، اور اس طرح اپنے آپ کو پوری طرح دین کا پیرو بنالے۔ امت کے افراد جب تک تمسک بالکتاب والسنہ کے اس اصول کو پکڑے رہیں گے، وہ کبھی گمراہ نہ ہوں گے۔ یعنی خود اختیاری کے ساتھ اسلام پر عمل کرنا، اور دوسروں تک اسلام کو بطور دعوت پہنچانا (ہود، 11:88)۔ اس کے برعکس، امت اس تعلیم کو لازم کے صیغہ (intransitive form) میں لینے کے بجائے متعدی کے صیغہ (transitive form) میں لینے لگے تو اس کے بعد گمراہی کا آغاز ہو جائے گا۔ یعنی متمسک بنو کے بجائے بزور متمسک بناؤ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دین کی پیروی اختیار کرو کا نظریہ لوگوں کو ہدایت پر قائم کرتا ہے، اور دین کی تنفیذ کرو کا نظریہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے دور کر دیتا ہے۔ موجودہ زمانے میں امت کے اندر جو تشدد پیدا ہوا، اس کا سبب یہی ہے۔ بیسویں صدی میں کچھ ایسے مسلم رہنما اٹھے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر ( political interpretation) پیش کی۔ انھوں نے قرآن وسنت کی خود ساختہ تشریح کر کے یہ نظریہ بنایا کہ اسلام ایک مکمل نظام (complete system) ہے، اور امت کی ذمے داری یہ ہے کہ وہ اس نظام
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues