دجال کون
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۱
نہیں آئے گی، یہاں تک کہ زمین پر اللہ اللہ نہیں کہا جائے گا۔ اس سے مراد دنیا کی عام قومیں نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد امت مسلمہ ہے۔ اللہ اللہ نہ کہنے کا مطلب زبان سے دہرانا بند کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا امت مسلمہ کے لیے پرائم کنسَرن کی حیثیت سے باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ دوسری دوسری چیزیں ان کے نزدیک پرائم کنسَرن کی حیثیت اختیار کر لیں گی۔ اللہ سے حقیقی تعلق کا ختم ہونا ایک تاریخی عمل (historical process) کا معاملہ ہے۔ اسلام کے دورِ اول میں ایشیا اور افریقہ میں جب مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم نہیں ہوئی تھیں، اس وقت مسلمانوں کا اعتماد صرف اللہ پر ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب مسلمانوں کی سلطنتیں قائم ہو گئیں تو مسلمانوں کا اعتماد اللہ پر کمزور ہو گیا۔ اب وہ مسلم سلطنتوں پر شعوری یا غیر شعوری طور پر اعتماد کرنے لگے۔ یہ شفٹ آف ایمفیسس کا معاملہ تھا، یعنی ٹرانسفر آف سیٹ فرام گاڈ ٹو مسلم پولیٹیکل پاور: transfer of seat from God to Muslim political power اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب مغربی قوموں کو عروج حاصل ہوا، اور مغل ایمپائر اور ٹرکش ایمپائر جیسی مسلم سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد مسلمان عملاً مسلم امت کی صورت میں باقی رہے، جس کے سیاسی غلبے کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ سیاسی خلا کا نتیجہ یہ ہوا کہ خوف کی نفسیات مسلمانوں کے لیے بائنڈنگ فورس بن گئی۔ اب ان کا اعتماد صرف اپنی ملت پر قائم ہو گیا۔ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے مسلمان زیادہ سے زیادہ اپنی ملت کی طرف مائل ہونے لگے۔ ان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنا کہ ان کے لیے اب اعتماد کا ذریعہ ان کی اپنی ملت ہے۔ اس طرح مسلمان نفسیاتی اعتبار سے دوسری قوموں سے دور اور مسلمانوں سے قریب آنے لگے۔ اس کے نتیجے میں فطری طور پر مسلمانوں کا یہ مزاج بنا کہ مسلم اور غیر مسلم کے اعتبار سے جو آدمی مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت کرے، وہ ان کا اپنا آدمی ہے، اور جو مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت نہ کرے، وہ عملاً ان کے مفروضہ دشمن کا ساتھی ہے۔
یہی وہ قومی فضا ہے جس میں دجال ابھرے گا۔ وہ مسلمانوں کی اس نفسیات کو فیڈ (feed)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues