Al-Risala · October 2020 · page 22

دجال کون

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۲

کرے گا۔ وہ تمام مسائل میں یک طرفہ طور پر غیر مسلم قوموں کو اور غیر مسلم میڈیا کو ذمہ دار ٹہرائے گا، اور مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر بے قصور ظاہر کرے گا۔ اس بنا پر مسلمان یہ سمجھیں گے کہ وہی ان کا حقیقی رہنما ہے۔ وہی ان کے مفاد کی حفاظت کرنے والا ہے۔ یہ مزاج بڑھ کر یہاں تک پہنچے گا کہ وہ دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیں گے۔

دجال کے فعل کو دجل (to deceive) کیوں کہا گیا۔ کیوں کہ وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو بھٹکائے گا۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کو فروغ دے گا۔ دجال کی پوری سرگرمیوں کا مرکز یہ ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے مفروضہ دشمنوں کو عوامی زبان میں للکارے گا۔ وہ اسٹیج کے میدان میں بظاہر مفروضہ دشمنوں کو شکست دے گا۔ غلط طور پر مسلمانوں کو یہ باور کرائے گا کہ ہم نے تمھارے دشمنوں کو زیر کر دیا ہے۔ مگر دجال کا یہ سارا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام دشمنی کا معاملہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کی باتیں مسلمانوں کی توجہ کو اللہ کے بجائے، غیر اللہ کی طرف مائل کردیں گی۔ مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کرنے والا وہ ہے، جس کی رہنمائی سے مسلمانوں میں اللہ پر یقین بڑھے۔ ان کے اندر اللہ کا تقویٰ پیدا ہو، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ ان کو سب سے زیادہ شوق جنت کا ہو۔ ان کا سب سے زیادہ اہتمام آخرت کے لیے ہو جائے۔ وہ اپنی زندگی میں وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ (9:18) کے مصداق بن جائیں۔ یعنی اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرنا۔ مگر دجال کی منفی (negative) باتوں سے فریب خوردہ ہو کر ان کا حال بالکل طور پر یہ بن جائے گا کہ وہ دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ دجال ان کے اندر سے انسانی خیر خواہی کا کلی خاتمہ کر دے گا۔ وہ دوسری قوموں کو اپنا دشمن اور سازشی سمجھنے لگیں گے۔ وہ غلط طور پر یہ فرض کر لیں گے کہ ان کے ہر مسئلے کی ذمہ دار دوسری قومیں ہیں۔ اس طرح وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سرگرمیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ان کے اندر دعوت الی اللہ کا ذہن بالکل ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ دعوت الی اللہ کی اسپرٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر عام انسان کے لیے یک طرفہ طور پر خیر خواہی کا جذبہ ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page