تعلیم، قدیم اور جدید
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۶
اسپرٹ آف انکوائری اسپرٹ آف انکوائری کیا ہے۔ یہ تجسس کا مزاج ہے:
Spirit of enquiry is a persistent sense of curiosity. اسپرٹ آف انکوائری کو میں نے ایک تجربے سے سمجھا ہے۔ یہ واقعہ میری طالب علمی کے دور کا ہے۔ میری تعلیم جامعۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں ہوئی۔ میرے تفسیر کے استاد کا نام مولانا امین احسن اصلاحی تھا۔ اسپرٹ آف انکوائری کا پہلا سبق مجھے میرے استاد مولانا امین احسن اصلاحی سے ملا۔ ایک روز قرآن کی کلاس میں یہ آیت سامنے آئی: أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ (88:17)۔ یعنی کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا۔ استاد نے اس موقع پر طلبہ سے پوچھا کہ اونٹ کا سم (hoof) پھٹا ہوتا ہے یا جڑا ہوتا ہے۔ یعنی بیل کی مانند پھٹا ہوتا ہے یا گھوڑے کی مانند جڑا ہوتا ہے۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً 20 طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل پچو سے کبھی ایک جواب دیتا، اور کبھی دوسرا جواب۔
اس موقع پر استاد نے بتایا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے مشہور تابعی عامر بن شراھیل الشعبی (وفات 103ھ) کا مقولہ سنایا: لَا أَدْرِي نِصْفُ الْعِلْمِ (سنن الدارمی، اثر نمبر 186)۔ یعنی میں نہیں جانتا کہنا، آدھا علم ہے۔ اس کی تشریح انھوں نے کی کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمھارے پاس آدھا علم ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لاعلمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لیے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لاادری (میں نہیں جانتا) کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے، اور پھر تم اس کے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues