Al-Risala · October 2020 · page 27

تعلیم، قدیم اور جدید

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۷

مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لیے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی ناواقفیت کو جانوں، تا کہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے ملا تھا۔ بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (spirit of enquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے دیکھا تھا، مگر اس معاملہ میں وہ اپنے ’’لا ادری‘‘ کو نہیں جانتے تھے، اس لیے وہ حقیقت سے بے خبر رہے۔ نیوٹن پہلا شخص ہے، جس نے اس معاملہ میں اپنے ’’لا ادری‘‘ کو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ’’ادری‘‘ کے درجہ تک پہنچ گیا۔ یعنی کشش ثقل (gravitation) کو دریافت کیا۔ اس کے برعکس، ہمارے لوگوں کا معاملہ ہے۔ وہ دور جدید کو نہیں جانتے تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے یہ اعلان کر دیا کہ دور جدید اسلام کا مخالف ہے۔ جب کہ انھیں کہنا یہ چاہیے تھا کہ لا ادری ما هو العصر الجديد (میں نہیں جانتا کہ دور جدید کیا ہے)۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہوتے کہ دور جدید کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔

جب انھوں نے دور جدید کو جانے بغیر یہ اقدام کیا کہ انھوں نے، اس ادری (میں جانता ہوں) کلچر کی بنا پر، ہر چیز کو مخالفِ اسلام قرار دے دیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بنا پر وہ دور جدید میں دوسری قوموں سے پیچھے رہ گئے۔ اس کے برعکس، راقم الحروف کا معاملہ یہ ہے کہ میں ہر چیز کو سب سے پہلے لا ادری (میں نہیں جانتا ہوں) کے خانے میں ڈالتا ہوں۔ اس کے بعد موضوعی اعتبار سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کہا تھا: جب معلوم نہ ہو تو معلوم کرنا چاہیے ۔ یقیناً نہ جاننے کا علاج دریافت کرنا ہے (أَلَّا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 336۔ اسپرٹ آف انکوائری بہت زیادہ اہم ہے۔ گویا یہ اپنے نہ جاننے کو جاننا بنانے کا آرٹ ہے۔ یہ تمام انسانی ترقیوں کے لیے قوت محرکہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues

Printed page