دین کی عصری تفہیم
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۹
ایک واقعہ
جب میں لکھنو میں تھا، اس وقت میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ ان کا نام تھا ڈاکٹرسمیع اللہ خاں۔ یہ ملاقات لکھنو میں گمتی کے پل پر ہوئی تھی۔ فلسفے میں انھوں نے ڈاکٹریٹ کیا تھا، اور برٹرینڈ رسل پر ریسرچ کیا تھا۔ وہ اپنی تعلیم کے بعد ملحد ہو چکے تھے۔ اس گفتگو کا موضوع خدا کا وجود تھا۔ یعنی یہ کہ اس کا ئنات کا ایک خالق ہے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: خدا کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کرائیٹرین کیا ہے۔ میری زبان سے نکلا، وہی کرائیٹرین (criterion) جو آپ کے پاس کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے ہو۔ وہ آدمی بہت زیادہ پڑھا لکھا تھا۔ وہ ایک جملے میں چپ ہوگیا۔ اس کے بعد میری اس سے دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی۔
میرے جواب کا جو پس منظر تھا، اس سے وہ بخوبی طور پر واقف تھے۔ وہ پس منظر یہ تھا کہ سائنس نے حقیقت کی دریافت کا ایک لمبا سفر کیا ہے۔ اس سفر کا موجودہ مقام وہ ہے، جس کو کوانٹم فرکس یا کوانٹم میکانکس کہا جاتا ہے۔ کوانٹم فرکس جس آخری تحقیق پر پہنچی ہے، وہ یہ ہے کہ میٹر (matter) اپنے آخری تجزیے میں کمیت کے اعتبار سے غیر مرئی (invisible) ہو جاتا ہے۔ وہ اتنا زیادہ غیر مرئی ہو جاتا ہے کہ اس کے وجود کو نہ براہ راست دیکھا جاسکتا ہے، اور نہ ہی مائیکرو اسکوپ کے ذریعے ۔ اس کو صرف اس کے اثر(effect) کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ اس بنا پر اس کوامکان کی لہریں (waves of probability) کا نام دیا گیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ قصہ صرف ایک انسان کا نہیں، یہ جدید دور کے تمام انسانوں کا ہے۔ آج کا انسان جس نے سائنس اور جدید دریافتوں کا مطالعہ کیا ہے، وہ اس بات کو جان چکا ہے کہ جس دلیل کے ذریعے انسان میٹر تک پہنچتا ہے، ٹھیک اسی دلیل سے انسان خالق تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانے میں اس معاملے میں نیگیٹیو سوچ رکاوٹ بن گئی ہے۔ اگر نیگیٹیو سوچ حائل نہ ہو تو جدید دور کا انسان وہی بات کہے گا، جو ڈاکٹر سمیع اللہ نے امکانی طور پر کہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues