عورت کا مقام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۰
عورت کا مقام
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام گھر سنبھالنا ہے۔ مرد کا درجہ قوامیت کا درجہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مرد کمانے والا فرد ہے۔ اس اصول کا ماخذ قرآن کی یہ آیت ہے: اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ (4:34)۔ یعنی مرد، عورتوں کے اوپر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کیے ۔
راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ عورت کے بارے میں یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے۔ خود مذکورہ آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے اصل الفاظ یہ ہیں: وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ (اور اس بنا پر کہ مرد نے اپنے مال خرچ کیے )۔ اگر اس آیت کا حتمی مفہوم ہوتا ہے تو الفاظ مختلف ہونا چاہیے تھا۔ مثلاً یہ کہ وبما ينفقون من اموالهم (اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں یا کریں گے)۔ اس اسلوب کی بنا پر اس آیت میں تاویل کی گنجائش موجود ہے۔ آیت کے الفاظ پر غور کرنے کے بعد راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہ جملہ (sentence) عورت کے بارے میں کسی حکم شرعی کو نہیں بتاتا، بلکہ وہ صرف یہ بتاتا ہے کہ معاشرتی حالات کے لحاظ سے عورت کا سماج میں ایک کردار یہ بھی ہے۔ موجودہ زمانے میں معاشرتی اقدار بہت زیادہ بدل گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ ایک عملی ضرورت بن گئی ہے کہ شوہر کے ساتھ بیوی بھی کمانے والی فرد بن کر اپنا کردار ادا کرے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں مہنگائی کی بنا پر یہ عام طور پر صورت حال ہے کہ مرد کی اکیلی کمائی گھر کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔ اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ عورت بھی کمائی میں حصہ دار بنے۔ بما انفقو من اموالهم کے معاملے میں بقدر استطاعت عورت بھی مرد کی شریک حال بنے۔ سیکولر سوسائٹی میں یہ طریقہ عام طور پر رایج ہو چکا ہے۔ مسلم سماج میں اس طریقہ کو اگر اختیار کیا جائے تو اس میں بہ ظاہر کوئی قباحت نہیں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues