مواقعِ اویَل کرنا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۲
مواقعِ اویَل کرنا
قرآن میں ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرَا (94:6)۔ یعنی بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اصل یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ وہ مختلف قسم کی چیزیں موجود رہتی ہیں—— مسائل (problems) اور مواقع۔ جس طرح زندگی میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں، اسی طرح زندگی میں ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دانش مندی کا طریقہ یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کیا جائے۔ مسائل سے الجھنا، صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے، اور ضائع شدہ وقت دوبارہ ہاتھ آتا نہیں۔ مسائل اور مواقع کو میری زندگی کے تجربے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ نومبر 2000 کے پہلے ہفتے میں میرا بہار کے لیے سفر ہوا۔ اس سفر میں انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کی خاتون نمائندہ سنجیدہ بانو نے انٹرویو لیا تھا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ آپ بھی ایک عالم ہیں، مگر روایتی علماء اور آپ کے درمیان فرق ہے، ایسا کیوں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ جہاں تک اسلام اور قرآن وحدیث کا تعلق ہے میرے اور ان کے درمیان عقیدہ و عمل کا کوئی اختلاف نہیں۔ اس اعتبار سے دونوں کا دین مکمل طور پر ایک ہے۔ میرے اور ان کے درمیان جو فرق ہے وہ نظریہ کا نہیں بلکہ طریقِ کار کا ہے۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں نے مدرسہ میں عربی اور دینی تعلیم کے حصول کے بعد ذاتی محنت سے انگریزی پڑھی اور جدید علوم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس سے میں نے سمجھا کہ اسلام کی ابدی صداقت کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ آج کے انسان کے لیے زیادہ قابلِ فہم ہو سکے۔ اس کے برعکس، دوسرے علما شکایت اور احتجاج میں لگے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں اسلام کو عصری اسلوب میں پیش کرتا ہوں، دوسرے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ دوسرے الفاظ میں، میں نے مسائل کے درمیان مواقع کو دیکھا، اور اس کے مطابق تیاری کی، جب کہ دوسرے لوگ مسائل میں الجھے رہے، اس لیے وہ جدید دور میں پیچھے رہ گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2020 All issues