Al-Risala · November 2020 · page 18

Truth, Progress and the Human Soul

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۸

فطرت کی پکار مبط اکز نیوٹ (Yakov Zeldovich) کے مشورے کے تحت ملکہ کور پیدائش 1914 میں ہوئی، اور وفات 1987 میں۔ وہ روس کی اکیڈمی آف سائنسز کے ممبر رہ چکے ہیں۔ سوویت یونین کے زمانے میں ماسکو سے شائع ہونے والے انگریزی ماہ نامہ اسپٹُنک (Sputnik) روایت پرستی کے دائرے میں رہنے والے " ٹریڈ شنلسٹ “ شمارہ اگست 1987 میں ان کا ایک مضمون چھپا تھا، جس کا عنوان ہے:

Truth, Progress and the Human Soul

اس مضمون میں مسٹر زالڈوویچ نے نیا سنہار، رس میں اقدار کا سرکہ وہ ایک اتھہ مسٹ، ہر اس مضمون میں مسٹر زلڈ و وچ لے اپنے بارے میں اقرار کیا ہے کہ وہ ایک اتھیسٹ ہیں، وہ خدا اور مذہب کو نہیں مانتے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ انسانی معاشروں میں مذہب کی موجودگی ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے۔ نیز یہ کہ روحانی تقاضے انسان کے شعور میں گہرائی کے ساتھ پیوست ہیں:

Spiritual needs are deeply embedded in human consciousness. انسانی فطرت کی یہ نوعیت اتنی واضح اور اتنی قطعی ہے کہ تمام سنجیدہ لوگوں نے اس کا اقرار کیا ہے۔ قدیم ترین زمانے سے لے کر آج تک تمام انسان اس احساس کو لے کر پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ ملحد معاشروں میں پیدا ہونے والے بچے بھی اپنے آپ کو اس احساس سے خالی نہ کر سکے ۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ایک ایسی مانی ہوئی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس حقیقت کو مان لینے کے بعد صرف یہ سوال باقی رہتاہے کہ اس تقاضے کا جواب کیا ہے۔ مذکورہ سائنس داں کا کہنا ہے کہ اس کا جواب نیچرل سائنس ہے۔ مگر یہ جواب اپنی تردید آپ ہے۔ اس لیے کہ نیچرل سائنس ایک مادی چیز ہے، اور انسانی فطرت کا تقاضا ایک روحانی چیز۔ پھر ایک مادی چیز ایک روحانی سوال کا جواب کس طرح بن سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب صرف خداوند تعالی ہے ۔ مخلوق اپنے خالق کی تلاش میں ہے ، اور خالق کو پانے کے بعد ہی مخلوق کو سکون حاصل ہو سکتا ہے: اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28) ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page