Al-Risala · November 2020 · page 19

ڈارون کا اعتراف

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۱۹

ڈارون کا اعتراف

چارلس ڈارون (1882-1809) نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان دوسرے حیوانات ہی کی ترقی یافتہ نسل ہے۔ یہ ایک بے حد عجیب نظریہ تھا۔ کیونکہ انسان انتہائی غیر معمولی حد تک دوسرے جانوروں سے مختلف ہے۔ پھر کیسے یہ ممکن ہوا کہ ایسا کا دماغ ترقی کرتے کرتے انسان کا دماغ بن جائے۔ یہ نظریہ اتنا بعید از قیاس تھا کہ ڈارون خود اپنے اس نظریے کے بارے میں حیرانی میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے اپنی ڈائری (1881 Darwin's Diary, April) میں لکھا ہے: Can the mind of man, which has, as I fully believe, been developed from a mind as low as that possessed by the lowest animal, be trusted when it draws such a grand conclusion?...I cannot pretend to throw the least light on such abstruse problems. (www.pbs.org/wgbh/evolution/darwin/diary/1881.html. accessed on 01.04.2020)

انسان کا دماغ جس کے متعلق میرا کامل عقیدہ ہے کہ وہ اس معمولی دماغ سے ترقی کر کے بنا ہے جو انتہائی ادنی حیوانات کو حاصل ہوتا ہے۔ کیا ایسے دماغ پر اس وقت بھروسہ کیا جا سکتا ہے، جب کہ وہ اتنے بڑے بڑے نتائج کر رہا ہو۔ میں یہ دکھانے کی جھوٹی کوشش نہیں کروں گا کہ میں اس قسم کے مشکل مسائل پر کچھ بھی روشنی ڈال سکتا ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی اور کائنات کی تشریح کا مسئلہ نا قابل قیاس حد تک بڑا مسئلہ ہے۔ کوئی انسان اپنی محدود عمر اور محدود صلاحیت کے ساتھ اس کی تشریح کا اہل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اس کی تشریح کرنے بیٹھتا ہے وہ ہمیشہ احساس عجز کا شکار رہتا ہے۔ خواہ اپنی زبان سے وہ اس کا اقرار کرے یا نہ کرے ۔ یہ واقعہ اس کا ثبوت ہے کہ زندگی اور کائنات کی حقیقت بتانے کے لیے انسانی دماغ سے برتر ایک دماغ درکار ہے۔ یہ کام صرف خدا کر سکتا ہے، اور خدا نے پیغمبروں کے واسطے سے اس کو انجام دیا ہے۔ یہ ایک قرینہ ہے جو پیغمبرانہ ہدایت کی ضرورت اور واقعیت کو ثابت کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page