Al-Risala · November 2020 · page 28

زیادہ عجیب ، کم تر عجیب

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۸

زیادہ عجیب ، کم تر عجیب

کہا جاتا ہے کہ خدا کی بنیاد پر کائنات کی توجیہہ کرنا اصل مسئلے کا حل نہیں۔ کیوں کہ پھر فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا نے کائنات کو بنایا تو خدا کو کس نے بنایا۔ مگر یہ ایک غیر منطقی سوال ہے۔ اصل مسئلہ ’’بے سبب‘‘ خدا کو ماننا نہیں ہے۔ بلکہ دو ’’بے سبب‘‘ میں سے ایک بے سبب کو ترجیح دینا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے سامنے ایک پوری کائنات موجود ہے۔ ہم اس کو دیکھتے ہیں۔ ہم اس کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ہم کائنات کے وجود کو ماننے پر مجبور ہیں۔ ایک شخص خدا کو نہ مانے، تب بھی عین اسی وقت وہ کائنات کو مان رہا ہوتا ہے۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کائنات کو بے سبب مانے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ ممکن نہیں۔ کیوں کہ کائنات میں تمام واقعات بہ ظاہر اسباب وعلل کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ ہر واقعے کے پیچھے ایک سبب کارفرما ہے۔ اس طرح خود کائنات کی اپنی نوعیت ہی یہ چاہتی ہے کہ اس کے وجود کا ایک آخری سبب ہو۔ جب کائنات کے حال کا ایک سبب ہے تو اس کے ماضی کا بھی لازمی طور پر ایک سبب ہونا چاہیے۔ یعنی وہی چیز جس کو علت العلل کہا گیا ہے۔

بے سبب کائنات کو ماننا ممکن نہیں ، اس لیے لازم ہے کہ ہم اس کا ایک سبب مانیں۔ کائنات لازمی طور پر اپنا ایک آخری سبب چاہتی ہے۔ یہی منطق اس کو لازمی قرار دیتی ہے کہ ہم خدا کو مانیں۔ اس لایحل مسئلہ کو حل کرنے کی دوسری کوئی بھی تدبیر ممکن نہیں۔ جب ہم بے سبب خدا کو مانتے ہیں تو ہم دو ممکن ترجیحات میں سے آسان تر کو ترجیح دیتے ہیں۔ بے سبب خدا کو مان کر ہم اپنے آپ کو بے سبب کائنات کو ماننے کے ناممکن عقیدہ سے بچا لیتے ہیں۔

خدا کو ماننا عجیب ہے۔ مگر خدا کو نہ ماننا اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ خدا کو مان کر ہم صرف زیادہ عجیب کے مقابلے میں کم عجیب کو اختیار کرتے ہیں۔

یہ صرف خدا کے وجود کا معاملہ نہیں۔ خالص سائنسی نقطہ نظر سے، اس دنیا میں کوئی بھی چیز نہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page