Al-Risala · November 2020 · page 29

زیادہ عجیب ، کم تر عجیب

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۲۹

ثابت (prove) کی جاسکتی، اور نہ غیر ثابت (disprove) کی جاسکتی۔ کسی بھی چیز کو ماننے کے معاملے میں یہاں انتخاب (option) ثابت شدہ (proved) اور غیر ثابت شدہ (unproved) کے درمیان نہیں۔ بلکہ ہر انتخاب ورک ایبل (workable) اور نان ورک ایبل (non-workable) کے درمیان ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اہل سائنس عام طور پر کشش (gravity) کے نظریے کو مانتے ہیں۔ مگر یہ ماننا اس لیے نہیں کہ کشش ثقل کوئی ثابت شدہ نظریہ ہے۔ نیوٹن نے سیب کو درخت سے گرتے ہوئے دیکھ کر یہ سوال کیا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا، اور پھر تحقیق کر کے اس نے کشش ارض کا نظریہ دریافت کیا۔ مگر ایک سائنس داں نے کہا کہ نیوٹن کو اس پر تعجب ہوا تھا کہ سیب نیچے کیوں آیا۔ مجھے یہ تعجب ہے کہ سیب اوپر کیسے گیا۔ درخت کی جڑ نیچے کی طرف جاتی ہے، اور اس کا تنہ اوپر کی طرف۔ اگر جڑ کے نیچے جانے کا سبب یہ بتایا جائے کہ زمین میں کشش ہے تو تنہ اور شاخوں کے اوپر جانے کی توجیہہ کس طرح کی جائے گی۔ یہی معاملہ تمام سائنسی نظریات کا ہے۔ سائنس میں جب بھی کسی نظریے (theory) کو مانا جاتا ہے تو وہ غیر ثابت شدہ کے مقابلے میں ثابت شدہ کو ماننا نہیں ہوتا۔ بلکہ نان ورک ایبل تھیری (non-workable theory) کے مقابلے میں ورک ایبل تھیری (workable theory) کو ماننا ہوتا ہے۔ ٹھیک یہی اصول نظریہ خدا کے معاملے میں بھی چسپاں ہوتا ہے۔ کشش کے معاملے میں ہمارے لیے جو انتخاب ہے وہ کشش رکھنے والے مادہ اور بے کشش مادہ میں نہیں ہے۔ بلکہ کشش رکھنے والے مادہ اور غیر موجود مادہ میں ہے۔ چونکہ غیر موجود مادے کا نظریہ ورک ایبل نہیں ہے۔ اس لیے ہم نے کشش رکھنے والے مادہ کا انتخاب لے رکھا ہے، خالص علمی اعتبار سے یہی معاملہ خدا کے عقیدہ کا بھی ہے۔

کائنات کے اندر تخلیق کی صلاحیت نہیں، وہ اپنے اندر کے ایک ذرے کو نہ گھٹا سکتی، اور نہ بڑھا سکتی۔ اس لیے، دوسرے تمام سائنسی نظریات کی طرح، یہاں بھی ہمارے لیے انتخاب باخدا کائنات (universe with God) اور بے خدا کائنات (universe without God) میں نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page