Al-Risala · November 2020 · page 33

سائنس توحید کی طرف

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۳

سائنس توحید کی طرف

علم طبیعیات میں، نیوٹن کے بعد سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ چار قسم کے قوانین یا طاقتیں ہیں، جو فطرت کے مختلف مظاہر کو کنٹرول کرتی ہیں :

1۔ قوتِ کشش (Gravitational Force)

2۔ برقی مقناطیسی قوت(Electromagnetic Force)

3۔ طاقت ورنیوکلیرقوت(Strong Nuclear Force)

4۔ کمزورنیوکلیرقوت(Weak Nuclear Force)۔

کشش کا قانون، ایک کہانی کے مطابق، نیوٹن نے اس وقت معلوم کیا جب کہ اس نے سیب کے درخت سے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا۔ ”سیب اوپر کی طرف کیوں نہیں گیا، نیچے زمین پر کیوں آیا۔ “ اس سوال نے اس کو اس جواب تک پہنچایا کہ زمین میں، اور اسی طرح تمام دوسرے کروں میں، جذب وکشش کی قوت کارفرما ہے۔ بعد کو آئن سٹائن نے اس نظریے میں بعض فنی اصلاحات کیں۔ تاہم اصل نظریہ اب بھی سائنس میں ایک مسلمہ اصولِ فطرت کے طور پر مانا جاتا ہے۔ برقی مقناطیسی قانون کا تجربہ پہلی بار فریڈے ([1791-1867] Michael Faraday) نے 1831 میں کیا۔ اس نے دکھایا کہ بجلی کی قوت اور مقناطیس کی قوت ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ مقناطیس اور حرکت کو یکجا کیا جائے تو بجلی پیدا ہو جاتی ہے، اور مقناطیس اور بجلی کی لہر کو یکجا کریں تو حرکت وجود میں آجاتی ہے۔

ابتدائی 50 سال تک تمام طبیعی واقعات کی توجیہہ کے لیے مذکورہ دو قوانین کافی سمجھے جاتے تھے۔ مگر موجودہ صدی کے آغاز میں جب ایٹم کے اندرونی ڈھانچے کی بابت معلومات میں اضافہ ہوا، اور یہ معلوم ہوا کہ ایٹم سے بھی چھوٹے ذرات ہیں جو ایٹم کے اندر کام کر رہے ہیں تو طبیعی نظریات میں تبدیلی شروع ہوگئی۔ یہیں سے طاقت ور نیوکلیئر فورس اور کمز ور نیوکلیئر فورس کے نظریات

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page