Al-Risala · November 2020 · page 34

سائنس توحید کی طرف

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۴

پیداہوئے۔ ایٹم کا اندرونی مرکز (نیوکلیس) الیکٹران سے گھرا ہوا ہے، جو کہ پروٹان نامی ذرات سے بہت زیادہ چھوٹے اور ہلکے ہیں۔ مگر مطالعہ بتاتا کہ ہر الیکٹران وہی چارج رکھتا ہے، جو بھاری پروٹان رکھتے ہیں۔ البتہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ الیکٹران میں منفی برقی چارج ہوتا ہے، اور پروٹان میں مثبت برقی چارج۔ الیکٹران ایٹم کے بیرونی سمت میں اس طرح گردش کرتے ہیں کہ ان کے اور ایٹم کے مرکز (نیوکلییں) کے درمیان بہت زیادہ خلا ہوتا ہے۔ مگر منفی چارج اور مثبت چارج دونوں میں برابر برابر ہوتے ہیں، اور اس بنا پر ایٹم بحیثیت مجموعی برقی اعتبار سے نیوٹرل (neutral) اور قائم (stable) رہتا ہے۔

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایٹم کا مرکز بطور خود قائم (stable) کیوں کر رہتا ہے۔ الیکٹران اور پروٹان الگ الگ ہو کر بکھر کیوں نہیں جاتے۔ قائم رہنے (stability) کی توجیہہ طبیعیاتی طور پر یہ کی گئی ہے کہ پروٹان اور نیوٹران کے قریب ایک نئی قسم کی طاقتور قوت کشش موجود ہوتی ہے۔ یہ قوت ایک قسم کے ذرات سے نکلتی ہے جن کو میسن (Mesons) کہا جاتا ہے۔ ایٹم کے اندر پروٹان اور نیوٹران کے ذرات بنیادی طور پر یکساں (identical) سمجھے جاتے ہیں۔ مقناطیس کے دو ٹکڑوں کو لیں اور دونوں کے یکساں رخ (ساؤتھ پول کو ساؤتھ پول سے یا نارتھ پول کو نارتھ پول سے ملائیں تو وہ ایک دوسرے کو دور پھینکیں گے۔ اس معروف طبیعی اصول کے مطابق پروٹان اور نیوٹران کو ایک دوسرے سے بھاگنا چاہیے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ پروٹان اور نیوٹران ہر لمحہ بدلتے رہتے ہیں، اور اس بدلنے کے دوران میسن کی صورت میں قوت خارج کرتے ہیں، جوان کو جوڑتی ہے۔ اسی کا نام طاقت ور نیوکلیئر فورس ہے۔ اسی طرح سائنس دانوں نے دیکھا کہ بعض ایٹم کے کچھ ذرات (نیوٹران میسن) اچانک ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ صورت حال مثلاً ریڈیم میں پیش آتی ہے۔ ایٹم کے ذرات کا اس طرح اچانک ٹوٹنا طبیعیات کے مسلمہ اصول تعلیل (causality) کے خلاف ہے۔ کیوں کہ پیشگی طور پر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ایٹم کے متعدد ذرات میں سے کون سا ذرہ پہلے ٹوٹے گا۔ اس کا مدار تمام تر اتفاق پر ہے۔ اس مظہر کی توجیہہ کے لیے ایٹم میں جو پر اسرار طاقت

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page