Al-Risala · November 2020 · page 36

سائنس توحید کی طرف

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۶

پیچیدہ اور حیرت ناک ہے کہ اس کو جاننے کے بعد کوئی آدمی ”کیوں ہے“ کے سوال سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میکسویل [1879-1831] James Clerk Maxwell) وہ شخص ہے، جس نے برقی مقناطیسی تعامل (electromagnetic interaction) کے قوانین کوریاضی کی مساواتوں (equations) میں نہایت کامیابی کے ساتھ بیان کیا۔ انسان سے باہر فطرت کا جو مستقل نظام ہے اس میں کام کرنے والے ایک قانون کا انسانی ذہن کی بنائی ہوئی ریاضیاتی مساوات میں اتنی خوبی کے ساتھ ڈھل جانا اتنا عجیب تھا کہ اس کو دیکھ کر بولٹزمین بے اختیار کہہ اٹھا — کیا یہ خدا تھا جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں جو دل میں حیرت انگیز خوشی بھر دیتا ہے :

Was it a God that wrote these signs, revealing the hidden and mysterious forces of nature around me, which fill my heart with quiet joy? * دریافت کی اہمیت انسان کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز دریافت ہے۔ دریافت ہی سے دنیا کی ترقیاں بھی ملتی ہیں، اور دریافت ہی سے آخرت کی ترقیاں بھی۔ قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے، جو غیب پر ایمان لائے (البقرۃ، 2:3)۔ غیب پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں نامعلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانے میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔

دنیوی ترقی کے رازوں کو خدا نے زمین و آسمان کے اندر چھپا دیا ہے۔ ان رازوں کو قوانین فطرت کہا جاتا ہے۔ سائنس میں انھیں رازوں (یا قوانین فطرت) کو دریافت کیا جاتا ہے۔ جو قوم ان رازوں کو دریافت کرے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ موجودہ زمانے میں ہم مغربی اقوام کو یا ایشیا میں جاپان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں کو تمام ترقیاں انھیں دریافتوں کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہیں۔ اسی طرح عالم آخرت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا ہے۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جو چیز غیب میں ہے اس کو شہود میں لانا ہے۔ اسی دریافت یا اکتشاف کا نام ایمان ہے۔ جو شخص اس ایمان میں جتنا زیادہ آگے ہوگا، وہ آخرت میں اتنا ہی زیادہ ترقی اور کامیابی حاصل کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page