Al-Risala · November 2020 · page 35

سائنس توحید کی طرف

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۰، صفحہ ۳۵

فرض کی گئی ہے، اسی کا نام کمزور نیوکلیئر فورس ہے۔ سائنس داں یہ یقین کرتے رہے ہیں کہ انھیں چار طاقتوں کے تعامل (interactions) سے کائنات کے تمام واقعات ظہور میں آتے ہیں۔ مگر سائنس عین اپنی فطرت کے لحاظ سے ہمیشہ وحدت کی کھوج میں رہتی ہے۔ کائنات کا سائنسی مشاہدہ بتاتا ہے کہ پوری کائنات انتہائی ہم آہنگ ہو کر چل رہی ہے۔ یہ حیرت ناک ہم آہنگی اشارہ کرتی ہے کہ کوئی ایک قانون ہے، جو فطرت کے پورے نظام میں کارفرما ہے۔ چنانچہ طبیعیات مستقل طور پر ایک متحدہ اصول (unified theory) کی تلاش میں ہے۔ سائنس کا ضمیر“ متواتر اس جدوجہد میں رہتا ہے کہ وہ قوانین فطرت کی تعداد کو کم کرے اور کوئی ایک ایسا اصول فطرت principle (of nature دریافت کرے، جو تمام واقعات کی توجیہہ کرنے والا ہو۔

آئن اسٹائن نے مذکورہ قوانین میں سے پہلے دو قوانین کشش اور برقی مقناطیسیت کے اتحاد (unification) کی کوشش کی، اور اس میں 25 سال سے زیادہ مدت تک لگا رہا، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی موت سے کچھ پہلے اس نے اپنے لڑکے سے کہا تھا کہ میری تمنا تھی کہ میں اور زیادہ ریاضی جانتا تا کہ اس مسئلے کو حل کر لیتا۔

ڈاکٹر عبد السلام (1996-1926) اور دوسرے دو امریکی سائنس دانوں، شیلڈن لی گلاشو Steven Weinberg [b. ]اور وین برگ Sheldon Lee Glashow [b. (1933) کو 1979 میں طبیعیات کا جو مشترکہ نوبل انعام ملا ہے، وہ ان کی اسی قسم کی ایک تحقیق پر ہے۔ انھوں نے مذکورہ قوانین فطرت میں سے آخری دو قانون (طاقتور اور کمزور نیوکلیئر فورس) کو ایک واحد ریاضیاتی اسکیم میں متحد کر دیا۔ اس نظریے کا نام جی ایس ڈبلیو نظریہ (G-S-W Theory) رکھا گیا ہے۔ اس کے ذریعے انھوں نے ثابت کیا ہے کہ دونوں قوانین اصلاً ایک ہیں۔ اس طرح انھوں نے چار کی تعداد کو گھٹا کر تین تک پہنچادیا ہے۔

سائنس اگر چہ اپنے کو " کیا ہے“ کے سوال تک محدود رکھتی ہے، وہ کیوں ہے“ کے سوال تک جانے کی کوشش نہیں کرتی۔ تاہم یہ ایک واقعہ ہے کہ سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ اتنی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2020 All issues

Printed page