Tazkirul Quran, Qur’an 104:1–9
The Backbiter (Al-Humazah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں ۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔
اختلاف کے وقت اہل ایمان کا رویہ کیا ہونا چاہیے، اس کو ایک واقعہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دو صحابی ، سعد بن ابی وقاص او ر خالد بن الولید کے درمیان کسی معاملے پر بات کرتے ہوئے کوئی ذاتی نزاع پیداہوگئی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ایک شخص نے حضرت سعد سے حضرت خالد کی برائی بیان کی۔ تو سعد نے کہا دور ہو، ہم دونوں کے درمیان جو معاملہ ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا (فَإِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا )مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 25535۔
اجتماعی زندگی میں باہمی نزاع کا پیدا ہونا، ایک عام بات ہے، لیکن اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ ذاتی معاملے کو دین سے الگ رکھیں ۔ ذاتی شکایت کو وہ ایک دوسرے کے دین تک نہ لے جائیں ۔ذاتی اختلاف کے باوجود وہ دینی اعتبار سے ایک دوسرےکے اعتراف میں کمی نہ آنے دیں ۔