Tazkirul Quran, Qur’an 103:1–3
The Passage of Time (Al-‘Asr)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
زمانہ کیا ہے۔ گزرتا ہوا وقت۔ زمانے کے گزرتے ہوئے دھارے میں انسان بھی بہہ رہا ہے۔ ہمارا حال ہر آن ماضی میں تبدیل ہورہاہے۔ ہر لمحہ انسان کاکاؤنٹ ڈاؤن (countdown) ہورہا ہے۔ انسان ہر لمحہ زندگی سے موت کی طرف جارہا ہے۔یہ فطرت کا ایک لازمی قانون ہے۔ اس قانون کو دوبارہ الٹی طرف چلایا نہیں جا سکتا۔مثال کے طور پر ایک شخص کی مقررہ عمراگر 80 سال ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ پیدا ہوتے ہی اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا۔ ہر گزرنے والادن اس کی عمر میں ایک دن کمی کا اعلان ہے۔ انسان کے لیے خسران سے بچنے کا راستہ یہ ہے وہ زندگی ختم ہونے سے پہلے منصوبہ تخلیق کے مطابق اپنی عمر کو استعمال کرلے۔
اس دنیا میں کامیابی کے لیے آدمی کو بالارادہ کوشش کرنا ہے ، جب کہ ناکامی اس کی طرف اپنے آپ چلی آرہی ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی مہلتِ عمر کو استعمال نہ کرے تو آخر کار اس کے حصہ میں جو چیز آئے گی وہ صرف ہلاکت ہے۔ کامیاب ہونے کے لیے آدمی کو خود عمل کرنا ہے۔ جب کہ ناکامی کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنے آپ اس کی طرف بھاگی چلی آ رہی ہے۔
ایک بزرگ نے کہا کہ سورہ العصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے، لوگو، اس شخص پر رحم کرو، جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتی رہتی ہے اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی میں یا برے کاموں میں کھو دیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے (تفسیر کبیر امام رازی، جلد 32، ص278) ۔
خدا کے منصوبۂ تخلیق کے مطابق، انسان کی زندگی کا زیادہ بڑا حصہ وہ ہے جو موت کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی اس کے پورے عرصہ حیات کا محض ایک ابتدائی وقفہ ہے ۔ یہی مختصر وقت انسان کا اصل سرمایہ ہے۔ کیوں کہ اسی پر اس کی آئندہ آنے والی طویل تر زندگی کا فیصلہ ہوناہے ۔ اس مختصر وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ اس میں معمولی غفلت بھی نا قابل تلافی نقصان کی صورت میں انسان کو بھگتنی پڑے گی۔
اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا وہ ہے جو موجودہ دنیامیں تین باتوں کا ثبوت دے۔ ایک ایمان، یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف۔ دوسرے عمل صالح، یعنی وہی کرنا جو کر نا چاہیے اور وہ نہ کرنا جو نہیں کرنا چاہیے۔ تیسرے حق و صبر کی تلقین ، یعنی حقیقت کا اتنا گہرا ادر اک کہ آدمی اس کاداعی اور مبلغ بن جائے۔
اس دنیا میں ایک کامیاب زندگی پانے کے لیے صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ آدمی جب خلافِ ایمان باتوں کا چھوڑنا برداشت کرتا ہے، اسی وقت اس کو ایمان کی نعمت حاصل ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی خواہشوں پر بریک لگاتا ہے، اسی وقت عملِ صالح کو اختیار کرنا اس کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ جب وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوشگواریوں پر صبر کرتا ہے، اسی وقت وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو حق کی نصیحت کرسکے۔