Tazkirul Quran (Urdu) · Quraysh (Quraysh)

Tazkirul Quran, Qur’an 106:1–4

Quraysh (Quraysh)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے، اور سردیوں کے زمانہ میں وہ یمن کی طرف تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجارتوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستے میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا۔ وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو نہیں لوٹتے تھے۔

یہاں حکمتِ دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرنی چاہیے۔

یہاں داعی گروہ کے لیے بہت بڑی خوش خبری ہے۔ وہ یہ کہ خدا نہ صرف داعی گروہ کی مدد کرتا ہے، بلکہ وہ اس گروہ کی بھی مدد کرتا ہےجو ابھی صرف پوٹنشل داعی گروہ کی حیثیت رکھتا ہو، حتی کہ اگر اسباب کے اعتبار سے، اس کی حفاظت کے مواقع نہ ہوں تو خدا ایسے گروہ کو اپنی خصوصی نصرت کے ذریعے بچائے گا، جیساکہ قریش ِمکہ، جو کہ پوٹنشل داعی گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، ان کو واقعۂ فیل کے وقت خدا کی خصوصی نصرت کے ذریعے بچایا گیا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page