Tazkirul Quran (Urdu) · Small Things (Al-Ma‘un)

Tazkirul Quran, Qur’an 107:1–7

Small Things (Al-Ma‘un)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

اس سورہ میں دین کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سورہ میں سب سے پہلے نتیجہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ان چیزوں کا ذکر ہے، جو کسی انسان کو اس نتیجہ تک پہنچانے والی ہیں ۔ جو لوگ دنیا میں اس طرح زندگی گزاریں ، جیسے حیوان زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنے عمل سے اس بات کا مظاہرہ کررہے ہیں کہ ان کے نزدیک دنیا ایک بے مقصد دنیا ہے۔ وہ کسی مقصد کے بغیر شروع ہوئی، اور کسی مقصد تک پہنچے بغیر ختم ہوجائے گی۔ ایسے لوگوں کے لیے آخری انجام ویل ہے، یعنی تباہ کن ناکامی۔ ایسے لوگوں کی ظاہری علامت کیا ہے ۔ اس سورہ میں پہلی بات روز جزاء (Day of Judgement)کو نہ ماننا ہے ۔ آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ اپنے آپ کو اونچا اور دوسروں کو نیچا سمجھے گا۔ مثلاً یتیم اور نادار لوگ۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں ، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔

اس قسم کے لوگ جو کچھ کماتے ہیں ، اس کو صرف وہ اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ دوسروں کے لیے ان کی کمائی میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ وہ اگر بظاہر دین دار ہوں، تب بھی ان کی دین داری صرف کچھ ظواہر کے معنی میں ہوتی ہے۔ ان کی دین داری دین کی حقیقی اسپرٹ سے خالی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے معمولی درجہ میں بھی دینے والے نہیں بنتے۔

نماز دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جس کویہاں ’’صلاۃ سہو‘‘ (غفلت کی نماز) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی وہ نماز جس میں آدابِ نماز کی پیروی نہیں کی گئی ہو۔ اس نماز سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا، بلکہ ایسے نمازیوں کے لیے خدا کے یہاں خرابی اور ویل ہے۔ دوسری نماز وہ ہے، جس کو قرآن میں صلاۃ خشوع(ڈر اور عاجزی کی نماز) کہا گیا ہے۔ یہی وہ نماز ہے جس کی بنیاد پر اللہ کا مطلوب نماز کلچر پیدا ہوتا ہے۔ نماز کلچر کیا ہے، اس کو قرآن میں مختلف مقام پر بیان کیا گیا ہے— خدا کی قربت(96:19)،قلبِ خاشع کے ساتھ زندگی گزارنا (23:2) ، وقت کی پابندی (4:103) ، فحشاء اور منکر سے رکنا (29:45)، اجتماعی زندگی گزارنا (2:43)، صابرانہ مزاج کے ساتھ دنیا میں رہنا (32:15)، قربانی کی اسپرٹ کا حامل ہونا (108:2)، سہو کی نفسیات سے بچنا (107:5)، یادِ الٰہی میں جینا (20:14)، اپنے معاملات کا نگراں بن جانا (70:34)، مستقل مزاج ہونا (70:23)، پاکیزگی کے ساتھ رہنا (5:6)، مرکز رُخی زندگی گزارنا (2:143)، وغیرہ۔حقیقی نماز وہ ہے جو نمازی کے اندر ان تمام صفات کو پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page