Tazkirul Quran (Urdu) · Those who Deny the Truth (Al-Kafirun)

Tazkirul Quran, Qur’an 109:1–6

Those who Deny the Truth (Al-Kafirun)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو خدا نے انھیں ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمۂ براءت ہے، نہ کہ کلمۂ دعوت۔

عربی زبان میں کفر کے معنٰی انکار کے ہیں اور کافرکا مطلب ہے، انکار کرنے والا۔ کافر ایک شخصی کردار ہے، کافر کسی قوم کا اجتماعی لقب نہیں ۔’’اے منکرو‘‘ یہاں قانون کی زبان استعمال نہیں کی گئی ہے، بلکہ ہیمرنگ کی زبان (language of hammering) استعمال کی گئی ہے۔ ہیمرنگ کی زبان قانون اور منطق کی زبان نہیں ہوتی۔ اُس میں شدتِ کلام کااسلوب اختیار کیا جاتاہے۔اس سے مراد زمانۂ رسالت کے مخصوص اہل کفر ہیں جنہوں نے یک طرفہ طور پر دشمنی اور جارحیت کی روش اختیار کر رکھی تھی ۔ یہ طرزِ خطاب پورے قرآن میں صرف ایک بار اسی ایک سورہ میں استعمال ہوا ہے۔ کافر یا کفّار یا کافرون کے الفاظ تو قرآن میں متعدد بار آئے ہیں ۔ مگر ایہاالکافرون جیسے متعین خطاب کی صورت میں اس کا استعمال قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں ہوا ہے۔مفسرین کی کثیر تعداد کی رائے کے مطابق، یہاں الکافرون میں الف لام عہد کا ہے۔ یعنی وہ ایک گروہ خاص کے لیے متعین طورپر آیا ہے، نہ کہ عمومی طورپر ہر اُس شخص کے لیے جو مسلم گروہ سے باہر ہو۔ اس سلسلےمیں کچھ مفسرین کے اقوال یہ ہیں المخاطبون کفرة مخصوصون (تفسیر النسفی، جلد 3، صفحہ 687)۔ یعنی اس کے مخاطب مخصوص منکرین ہیں ۔ وَعَنَى بِالْكَافِرِينَ قَوْمًا مُعَيَّنِينَ. لَا جَمِيعَ الْكَافِرِينَ (تفسیر القرطبی، جلد20، صفحہ226)۔ یعنی اس سے مراد منکرین کا متعین گروہ ہے، نہ کہ تمام منکرین۔ خطاب لجماعة مخصوصة (تفسیرالمظہری، جلد10، صفحہ 354)۔ یعنی یہ خطاب ایک مخصوص جماعت سے ہے۔

اس کا مطلب یہ ہےکہ اس سے مراد کچھ مخصوص لوگ ہیں ، اُس کو عمومی طورپراستعمال نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی اس سے مراد ہمیشہ کے لیے صرف قدیم منکرینِ قریش رہیں گے جو پیغمبراسلام کے معاصر تھے اور پیغمبرانہ اتمام حجت کے باوجود، جنہوں نے پیغمبر کی بات کو ماننے سے انکار کیا۔ زمانۂ نبوت کے بعد کے لوگوں کو ایہا الإنسان (اے لوگو!)کے لفظ سے خطاب کیا جائے گا، نہ کہ ایہا الکافرون (اے منکرو!)کے لفظ سے۔ اب یہی انداز ِخطاب ہمیشہ جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اِس کے تقریباً آٹھ سال بعد مکہ فتح ہوا، اور مکہ کے تمام لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اسی واقعہ کی طرف اگلی سورہ(النصر) میں اشارہ کیاگیا ہے۔اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہ مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام ہے اور نہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام ۔ دونوں ہی کا مدار اس پر ہے کہ کس کو معرفتِ خداوندی ملی اور کس کو معرفتِ خداوندی نہیں ملی ، اور معرفت خداوندی فرد کی کوشش کا نتیجہ ہے، وہ نسلی طور پر منتقل ہونے والی وراثت نہیں۔ اس لیے مسلسل ایسا ہوگا کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلیں خدا کی معرفت سے دور ہوتی رہیں گی اور غیر مسلموں میں سےکچھ لوگ سچائی کی دریافت کرتے رہیں گے۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ قومیت کا مدار مذہب پر نہ ہو بلکہ ہوم لینڈ پر ہو۔ کیوں کہ مذہب کی تقسیم بدلتی رہتی ہے ، جب کہ ہوم لینڈ کی تقسیم عموماًنہیں بدلتی ۔

دین کا آغاز معرفت (realization) سے ہوتا ہے۔ انسان جب آفاق و انفس پر غور کرتاہے تو اُس کو ایک عظیم خالق کی دریافت ہوتی ہے۔ خالق کی عظمت کا احساس اُس کے پورے وجود پرچھا جاتا ہے۔ وہ بے اختیار چاہنے لگتاہے کہ وہ اپنے خالق کے آگے اپنے پورے وجود کے ساتھ خود کو سرینڈر (surrender) کر دے، وہ اپنے پورے وجود کو اللہ کے آگے ڈال دے۔ اس کے دل میں اللہ کے لیے حب شدید کے احساس امنڈنے لگتے ہیں ۔ اس کو اندیشہ ہوتا ہے تو صرف اللہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ احساس، معرفت کا ایک فطری نتیجہ ہے اور اِسی فطری نتیجے کا نام عبادت ہے۔ عبادت اپنے ظاہر کے اعتبار سے، ایک فارم ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ مومن کے اندر پیداہونے والے داخلی طوفان کا ایک خارجی ظہور ہے۔ عابد انسان کی پوری زندگی اندر سے باہر تک عبادت بن جاتی ہے۔ عبادت ایک عارف انسان کی طرف سے اپنے رب کا قولی اور عملی اعتراف ہے۔

میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین — یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں ۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص جلدی پلٹتا نہیں ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page