Tazkirul Quran (Urdu) · Abundance (Al-Kawthar)

Tazkirul Quran, Qur’an 108:1–3

Abundance (Al-Kawthar)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

کوثر کا مطلب ہے خیر کثیر۔یعنی بہت زیادہ بھلائی اور بہتری۔ کیسے ایسا ہوتا ہے کہ ایک واقعہ جو انسان کے لیے ناپسندیدہ واقعہ ہو، وہ اس کے لیے خیر کثیر کا ذریعہ بن جائے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہوتا ہے، جو مسائل کو اگنور کرکے مواقع کو اویل کرنا جانتے ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ چنانچہ آپ کو اس دعوت کی راہ میں اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔ آپ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ آپ کی معاشی زندگی برباد ہوگئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ تھوڑے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر انہیں حوصلہ شکن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر اتری کہ تم کو ہم نے کوثر (خیر کثیر) دے دیا۔ یعنی ہر قسم کی اعلی ترین کامیابی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بعد کے سالوں میں کامل طور پر پوری ہوئی۔

پیغمبر اسلام کو یہ خیر کثیر کمال کے درجے میں دیا گیا۔ یہی وعدہ درجہ بدرجہ پیغمبر اسلام کے امتیوں سے بھی ہے۔ البتہ بعد کی امتیوں کو وہ ان کے عملی استحقاق کے اعتبار سے دیا جائے گا۔ یعنی ان کے لیے بھی ’’خیر کثیر‘‘ ہے بشرطیکہ وہ اس خالص دین کو لے کر اٹھیں جس کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب لے کر اٹھے تھے۔ اس خیر کثیر کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔

’’ اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو‘‘ یہ آیت دین کے دو پہلوؤں کو بتاتی ہے۔ ایک عجزوتواضع، اور دوسرے ایثار وقربانی۔نماز عجز کی علامت ہے اور جانور کی قربانی علامت ہے ایثار کی۔ یہ گویا دو بنیادیں ہیں ، جن کے اوپر پورے دین کی عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں عجز مطلوب ہے، اور بندوں کے مقابلہ میں ایثار درکار ہے۔ اللہ بڑا ہے، ہم چھوٹے ہیں ۔ اللہ دینے والا ہے، ہم پانے والے ہیں ۔ اللہ آقا ہے۔ ہم اس کے بندے ہیں ۔ اس اعتبار سے اللہ کے مقابلہ میں واحد چیز جو مطلوب ہو سکتی ہے، وہ عجز و تواضع ہی ہے۔یہاں بندے کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے بے کمال ہونے کو مانے، وہ اللہ کے مقابلہ میں عاجزی اور فرماں برداری کا طریقہ اختیار کرے۔ قربانی کا عمل کئی اعتبار سے بندوں سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ اس اخلاقی برتاؤ اور انسانی سلوک کا خلاصہ ہے جو قربانی کرنے والے کو اپنے معاشرہ کے اندر پیش آتا ہے۔

توسیعی مفہوم کے اعتبار سے صلوٰۃ اور نحر کا مطلب یہ ہے کہ مخالفین کے پروپیگنڈے کو نظر انداز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ سے تعلق قائم کرو، تاکہ شکر کا جذبہ پوری طرح برقرار رہے۔ ’نحر‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو دعوتی مشن تم کو دیاگیا ہے، قربانی کی سطح پر تم اس مشن کو جاری رکھو۔ مخالفین کی مخالفت تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی، وہ خود ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں گے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page