Tazkirul Quran (Urdu) · Twisted Fibre (Al-Masad)

Tazkirul Quran, Qur’an 111:1–5

Twisted Fibre (Al-Masad)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

’’ابولہب اور اس کی بیوی‘‘ ایک اعتبار سے دو انسانی کردار ہے۔ اور دوسرے اعتبار سے وہ مذہبی جبر کی دو نمائندہ مثالیں ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق کی ذمہ داری سونپی گئی تو آپ نے مکہ کے باشندوں کو اس کی طرف بلایا۔ مگر وہ لوگ آپ کی مخالفت کرنے لگے ۔ مخالفین میں جو لوگ سب سے آگے تھے، ان میں آپ کے چچا عبد العزّی (ابو لہب) اور اس کی بیوی ام جمیل بھی تھی۔ ایک مرتبہ ابولہب نے منفی ردِّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا’’تمہارا بُرا ہو، کیا تم نے یہی کہنے کے لیے ہم کو بلایا تھا (مستخرج ابی عوانہ، حدیث نمبر 262)۔ ابولہب اور اس کی بیوی کی مثال سے گویا یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اب وہ دور آنے والا ہے، جب کہ مذہبی جبر کا ماحول پیدا کرنے والے خواہ کتنی ہی کوششیں کرلیں ، وہ ناکام رہیں گے۔

خدا کو مطلوب تھاکہ مذہبی جبر کا یہ مصنوعی نظام ختم ہو اور مذہبی آزادی کا فطری نظام قائم ہوجائے۔ قدیم زمانے میں جن مشرک گروہوں کو خلافتِ ارضی کا رول ادا کرنے کا موقع ملا،مگرانھوں نے ناحق طورپر ساری دنیا میں جبر کی حکومت (despotic rule) کا نظام قائم کردیا۔ اِس دور میں انسان کو مذہبی آزادی حاصل نہ تھی۔ اِس دور میں ہر جگہ وہ کلچر قائم تھا جس کو مذہبی تشدد کا دور کہا جاتا ہے ۔ اللہ نے کثیر تعداد میں پیغمبر بھیجے، تاکہ وہ انسان کو خدا کے منصوبہ تخلیق سے باخبر کریں ۔ لیکن پیغمبروں کی پُرامن دعوتی کوششیں مذہبی جبر کی وجہ سے عملاً غیر موثر ہوگئیں ۔اِس کے بعد وہ خدائی فیصلہ آیا جس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں آیا ہے وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:29)۔قرآن کی اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ اہل شرک اپنے جبر کی بنا پر سیاسی غلبہ کا جواز ختم کرچکے ہیں ، ان کے غلبہ کو توڑ کر دورِ مذہبی آزادی کا آغاز کرو، تاکہ انسان کے اوپر اللہ کی ابدی رحمتوں کے دروازے کھلیں ۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے واقعتاً ایسا ہی کیا۔ پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں نے دورِ قدیم کی تقریباً پوری آباد دنیا میں وہ کام کیا جس کو ہنری پرین (Henri Pirenne)نے اِن الفاظ میں بیان کیا ہے — اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ تاریخ کے روایتی نظام کا خاتمہ ہوگیا

Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was over-thrown. (History of Western Europe, p. 46)

ابولہب (اوراس کی بیوی) دعوتِ حق کے اس مخالف کی تاریخی علامت ہے جو آخری حد تک مذہبی آزادی کا دشمن بن جائے۔ اس کردار سے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ پیش آیا، اسی طرح آپ کی امت کے دوسرے داعیوں کو بھی اس سے سابقہ پیش آسکتا ہے۔ تاہم اگر داعی حقیقی معنوں میں اللہ کے لیے اٹھا ہے تو اللہ کی مدد اس کا ساتھ دے گی۔ ابولہب جیسے لوگوں کی معاندانہ کوششیں اللہ کی مدد سے بے اثر ہوجائیں گی۔ اپنے تمام ذرائع اور وسائل کے باوجود وہ برباد ہو کر رہے گا۔ وہ اپنے عناد میں خود جلے گا، وہ خدا کے داعی کو جس برے انجام تک پہنچانا چاہتا تھا وہیں وہ خود ابدی طور پر پہنچا دیا جائے گا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page