Tazkirul Quran, Qur’an 112:1–4
Oneness (Al-Ikhlas)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قرآن کا بنیادی عقیدہ توحیدہے ۔ یہ سورہ توحید کی سورہ ہے۔ اسلام کی بنیاد دو اصولوں پرقائم ہے۔ ایک، خدا پر ایمان ۔ دوسرے، تمام انسانوں کے لیے مفید بننا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2004) ۔ ایک خدا کا تصور اسلام کا مرکزی تصور ہے۔ یہی عقیدہ اسلام کا اصل سرا ہے، اور یہی اسلام کی تعلیمات کا واحد سرچشمہ۔ اس سورہ میں خدا کے تصور کو ان تمام آمیزشوں سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے جس میں ہر زمانہ کا انسان مبتلا رہا ہے۔اس میں نہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا ایک ہے، بلکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خدا کے ایک ہونے کا مطلب کیا ہے۔ یعنی خدا کئی نہیں ، خدا صرف ایک ہے۔ سب اس کے محتاج ہیں ، وہ کسی کا محتاج نہیں ، وہ بذات خود ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اس سے بلند ہے کہ انسانوں کی طرح وہ کسی کی اولاد ہو یا اس کی کوئی اولاد ہو۔ وہ ایسی یکتا ذات ہے جس کا کسی بھی اعتبار سے کوئی مثل اور برابر نہیں ۔
موجودہ زمانے میں علمِ انسانیات (anthropology) کے نام سے ایک مستقل شعبۂ علم وجود میں آیا ہے۔اِس علم کے تحت، ہر دور کے انسانی سماجوں کا مطالعہ کیاگیا ہے۔ اِس مطالعے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہر زمانے کے سماج میں انسان کے اندر خدا کا عقیدہ پایا جاتا تھا، یعنی ایک ایسی فوق الطبیعی ہستی(supernatural being) کا عقیدہ، جو قائم بالذات (self-existent) ہے، جس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا، جو تمام عالمِ موجودات کو کنٹرول کررہا ہے، جس کے قبضۂ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں— جس انسان کو حقیقی خدا کی دریافت ہوجائے، وہ صرف خدا کی عبادت کرے گا، وہ مخلوق کی عبادت نہیں کرے گا ۔ وہ خدا کی مخلوق کے ساتھ اچھے اخلاق کا معاملہ کرے گا۔