Tazkirul Quran (Urdu) · People (Al-Nas)

Tazkirul Quran, Qur’an 114:1–6

People (Al-Nas)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

اللہ نے انسان کو ہر اعتبار سے ایک کامل وجود دیا، لیکن انسان کو کسی بھی اعتبار سے ذاتی اختیار حاصل نہیں ۔ انسان مکمل طورپر ایک عاجز مخلوق ہے۔اس کو لازمی طور پر پناہ کی ضرورت ہے۔ اِس عجز کی تلافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ انسان کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو ڈسکور کرے۔ قادرِ مطلق خدا کے مقابلے میں اپنے عجزِتام کو شعوری طورپر دریافت کرنا، یہی معرفت کاآغاز ہے۔ یعنی یہ دریافت کہ ایک خدا کے سوا کوئی اور اس کو پناہ نہیں دے سکتا۔ خدا ہی تمام انسانوں کا رب ہے، وہی لوگوں کا بادشاہ ہے، وہی لوگوں کا معبود ہے۔ پھر اس کے سوا کون ہے جو شر اور فتنہ کے مقابلہ میں لوگوں کا سہارا بنے۔ اِس دریافت کے بغیر کسی انسان کے اوپر معرفت کا دروازہ نہیں کھلتا۔

سب سے زیادہ خطرناک فتنہ جس سے انسان کو خدا کی پناہ مانگنی چاہیے وہ شیطان ہے۔ وہ سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی اصل حیثیت کو چھپاتا ہے۔ اور پر فریب تدبیروں سے انسان کو بہکاتا ہے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے هَذِهِ الشَّيَاطِينُ يَحُومُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ، أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ ‌لَرَأَوْا ‌الْعَجَائِبَ(مسند احمد، جلد 2 ، صفحہ 353)۔ یعنی یہ شیاطین، بنی آدم کی آنکھ کے سامنے منڈلاتے رہتے ہیں ، تاکہ وہ آسمان و زمین میں خدا ئی قدرت پر غور نہ کریں ۔ اگر ایسا نہ ہو تو یقینا وہ عجائب کو دیکھیں ۔

یہ کائناتی واقعات دراصل خدائی نشانیاں (divine signs) ہیں ، وہ تخلیق (creature)کی صورت میں اپنے خالق (Creator) کا تعارف ہیں ۔ انسان اگر کھلی آنکھ سے دیکھے تو وہ اِن واقعات میں خدائی عجائبات کا مشاہدہ کرے گا۔ لیکن شیطان آدمی کے ذہن میں ایسی باتیں ڈالتا ہے کہ وہ اِن کائناتی واقعات کو صحیح زاویۂ نظر سے نہ دیکھ سکے۔شیطان آدمی کے ذہن میں یہ تصور ڈالتا ہے کہ یہ سب واقعات خودکار قوانین کا نتیجہ ہیں ،نہ کہ خدائی قدرت کا نتیجہ۔ شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی اِن واقعات کو نصیحت کے پہلو سے نہ دیکھے، بلکہ وہ صرف اِس نظر سے دیکھے کہ کس طرح اُن سے مادّی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی اپنے اردگرد کے واقعات کو فارگرانٹیڈ (for granted)لیتا رہے، وہ اُن کے بارے میں زیادہ غور وفکر نہ کرے۔ یہی وہ شیطانی وسوسے ہیں جو انسان کو حقائق کی صحیح معرفت سے محروم کردیتے ہیں ۔

قرآن میں بار بار بتایا گیا ہے کہ انسان کا اصل دشمن شیطان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ شیطان کے معاملے میں ہوشیار رہے۔ اس دنیا میں ہر انسان شیطانی حملوں کی زد میں ہے۔ ہر انسان شیطانی وسوسہ کا شکار ہوتا ہے۔اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی کا ایمانی شعور بہت زیادہ بیدار ہو۔ شیطان کے فتنوں سے وہی شخص بچ سکتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرسکے۔ وہ سمجھ سکے کہ کون سی بات حقیقی بات ہے اور کون سی بات وہ ہے جو حقیقی بات نہیں ۔ یہ وسوسہ انداز ی کرنے والے صرف معروف شیاطین ہی نہیں ہیں ۔ انسانوں میں بھی ایسے شیطان نما لوگ ہیں جو مصنوعی روپ میں سامنے آتے ہیں اور پر فریب الفاظ کے ذریعہ آدمی کے ذہن کو پھیر کر اس کو گمراہی کے راستہ پر ڈال دیتے ہیں 

عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَ يَاأَبَاذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ قُلْتُلَا. قَالَ قُمْ فَصَلِّ، قَالَفَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَيَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَالَقُلْتُيَا رَسُولَ اللهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَنَعَمْ (مسند احمد، حدیث نمبر 21546) ۔ یعنی، حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ اس وقت مسجد میں تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا، اے ابو ذر کیا تم نے نماز پڑھی۔ میں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ نے فرمایا اٹھو اور نماز پڑھو۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور نماز پڑھی اور پھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابوذر ، جن و انس کے شیطانوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ہاں۔

جس نے اپنے آپ کو جن و انسان کے شیطانی فریب سے بچایا، وہی اللہ کی نظر میں کامیاب انسان ہے۔فتنوں سے خدا کی پناہ مانگنا دو طرفہ عمل ہے۔ ایک طرف خدا کی عنایت کو اپنے ساتھ شامل کرنا ہے۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد یہ ہے کہ فتنوں کے مقابلہ میں اپنے شعور کو بیدار کیا جائے تاکہ آدمی زیادہ باہوش طور پر اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکے۔

دہلی، 19 جولائی 1986

‹ Previous passage Open in the reader

Printed page