Tazkirul Quran (Urdu) · Bees (Al-Nahl)

Tazkirul Quran, Qur’an 16:101–102

Bees (Al-Nahl)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ اس کے مختلف حصے 23 سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کرکے اترتے رہے۔ دعوت وتربیت کے مصالح کے تحت بعض احکام میں تدریج کا طریقہ بھی اختیا رکیا گیا ۔مثلاً پہلے یہ حکم آیا کہ مخالفوں کے مقابلہ میں صبر کرو۔ اس کے بعد یہ حکم آیا کہ ان سے بطورِ دفاع جنگ کرو۔

اس قسم کی ’’تبدیلیوں‘‘ کو لے کر مخالفین یہ کہتے کہ قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ یہ محمد کی اپنی تصنیف ہے، جس کو انھوں نے خدا کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اگر وہ خدا کی طرف سے ہوتی تو اس میں کبھی اس قسم کی تبدیلیاں نہ ہوتیں۔

مخالفین اگر قرآن کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتے اور تبدیلی کے واقعہ کو صحیح رخ سے دیکھتے تو اس میں انھیں تدریج فی الاحکام کی حکمت نظر آتی۔ مگر جب انھوں نے اس کو غلط رخ سے دیکھا تو تبدیلی کا واقعہ انھیں انسانی علم کی کمی کا نتیجہ نظر آیا، جس چیز میں ان کے لیے تصدیق کا سامان چھپا ہوا تھا اس کو انھوں نے اپنے لیے افترا کا ذریعہ بنالیا۔

قرآن کو حق کے ساتھ اتارا گیا ہے — یہاں حق سے مراد خدا کا خالص اور بے آمیز دین ہے۔ جو لوگ سچائی کے طالب ہوں اور ملاوٹی دینوں میں اطمینان نہ پاتے ہوں، ان کےلیے قرآنی دین میں اپنی تلاش کا جواب بھی ہے اور ان کی تسکین قلب کا سامان بھی۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page