Tazkirul Quran (Urdu) · Bees (Al-Nahl)

Tazkirul Quran, Qur’an 16:98–100

Bees (Al-Nahl)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قرآن کو پڑھنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، اپنی نصیحت کے لیے پڑھنا۔ دوسری، دعوت کی خاطر دوسروں کے سامنے پیش کرنا، خواہ قر آن کے الفاظ دُہرائے جائیں یا اس کے مطالب بیان کیے جائیں۔دونوں صورتوں میں ضروری ہے کہ آدمی شیطان کے مقابلہ میں خدا کی پناہ مانگے۔ تعوذ کا مطلب صرف کچھ مقرر الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنے آپ کو شعوری طورپر مسلح کرنا ہے تاکہ شیطان کا حملہ بے اثر ہو کر رہ جائے۔

شیطان ہر وقت آدمی کی گھات میں ہے۔وہ قرآن کے الفاظ کے مفہوم کواس کے قاری کے ذہن میں بدل دیتاہے۔ اور جو چیزمتن میں نہ ہو اس کو تفسیر میں شامل کرا دیتاہے۔ اسی طرح شیطان داعی اور مدعوکے درمیان ایسے فتنے ابھارتا ہے جس کے نتیجے میں دعوت کا عمل رک جائے۔

تاہم شیطان کو خدانے صرف بہکانے اور ورغلانے کی آزادی دی ہے۔ اس کو یہ طاقت نہیں دی کہ وہ کسی کو بزور گمراہی کے راستے پر ڈال دے۔ جو لوگ خدا سے اپنا ذہنی رابطہ قائم کیے ہوئے ہوں ان پر اس کا کچھ بس نہیں چلتا۔ البتہ جو لوگ خدا سے غافل ہوں اور شیطان کی باتوں پر دھیان دیں ان کے اورپر شیطان مسلط ہوجاتا ہے اور پھر جدھر چاہتا ہے ادھر انھیں لے جاتا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page