Tazkirul Quran, Qur’an 17:59
The Night Journey (Al-Isra’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
پیغمبروں کے ساتھ جو غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کی عمومی نصرت کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کو تائید کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو مشرکین کے مطالبہ کے طورپر ظاہر کیے جاتے ہیں۔ ان کا اصطلاحی نام معجزہ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے اصحاب کے ساتھ تائید الٰہی کے بے شمار واقعات پیش آئے۔ مگر جہاں تک فرمائشی نشانی (معجزہ) کا تعلق ہے آپ کے لیے ان کو بھیجنا موقوف کردیاگیا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چیز کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جو لوگ غیر معمولی نشانی کا مطالبہ کریں، ان کے اوپر غیر معمولی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ چنانچہ خدا کا یہ قانون ہے کہ جو لوگ غیر معمولی نشانی (معجزہ) دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لائیں ان کو سخت عذاب بھیج کر نیست و نابود کردیا جائے۔ اب چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہونے والا تھا اس لیے آپ کی مخاطب قوم کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیوں کہ بالکلیہ تباہی کی صورت میں قوم مٹ جاتی۔ پھر پیغمبر کے بعد پیغمبر کی نمائندگی کے لیے دنیا میں کون باقی رہتا۔
پیغمبر آخر الزماں کے مخاطبین کے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت تھی کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان کو محسوس معجزات نہیں دکھائے گئے۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ ان کا بھی وہی سخت انجام ہو جو اس سے پہلے قوم ثمود کا ہوا۔