Tazkirul Quran, Qur’an 17:68–69
The Night Journey (Al-Isra’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
خدا کی خدائی کو ماننے کا نام توحید ہے اور خدا کی خدائی کو نہ ماننے کا نام شرک۔ اس اعتبار سے توحید کی اصل حقیقت اعتراف ہے اور شرک کی اصل حقیقت عدم اعتراف۔ انسان سے اس کے خدا کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہی اعتراف ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ وہ اعتراف کے بقدر بھی خدا کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
خدا انسان کو اس کی سرکشی کے باوجود فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ اس پر وقتی آفت بھیج کر اس کو خبردار کرتاہے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب آفت آتی ہے تو وقتی طورپر اس کے اندر احساس جاگتا ہے مگر آفت کے رخصت ہوتے ہی اس کا احساس بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ حالاں کہ بعد کو بھی وہ اتنا ہی خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے جتنا کہ وہ پہلے تھا۔
سمندر کے سفر سے اگر ایک بار وہ سلامتی کے ساتھ واپس آگیا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو دوبارہ سمندر کا سفر پیش آئے اور وہ دوبارہ اسی آفت میں گھر جائے جس میں وہ پہلے گھرا تھا۔ مزید یہ کہ خشکی کے خطرات سمندر کے خطرات سے کم نہیں ہیں۔ سمندر میں جو چیز طوفان ہے خشکی پر وہی چیز زلزلہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ کون سا مقام ہے جہاں آدمی کوئی ایسی چیز پالے جو خدا کے مقابلہ میں اس کی طرف سے روک بن سکے۔