Tazkirul Quran (Urdu) · The Night Journey (Al-Isra’)

Tazkirul Quran, Qur’an 17:70

The Night Journey (Al-Isra’)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ ’’تکریم‘‘ یعنی انسان کے ساتھ حَمَلْنَا کا معاملہ کیا گیا ہے، اللہ نے ان کو خشکی اور تری میں سفر کرنے کے لیے سواری عطا کی ۔جب کہ حیوانات کے ساتھ حَمَلْنَا کا معاملہ نہیں کیا گیا۔جانور اپنے پیروں کے ذریعہ زمین پر چلتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار کر کے خشکی کا سفر کرایا۔ مچھلیاں اپنی جسمانی محنت سے سمندر میں تیرتی ہیں ۔ چڑیاں اپنے بازوؤں کے ذریعہ فضا میں اڑتی ہیں ۔ مگر اللہ تعالی ٰنے انسان کے لیے ہوائی جہاز پر بیٹھ کر فضا میں اڑنے کا انتظام کیا یا بذریعہ کشتی ان کو سمندر کی سطح پر سفر کرایا گیا ہے ۔

چاند اور ستارے بے شعور مخلوق ہیں جب کہ انسان شعور اور ارادہ کا مالک ہے۔ درخت پر دوسرے جس طرح چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں مگر انسان خود دوسری چیزوں کے اوپر تصرف کرتاہے۔ جانور صرف اپنے اعضاء کے ذریعہ عمل کرتے ہیں مگر انسان اوزار اور مشین بنا کر ان کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرتاہے۔ دریا کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ نشیب کے رخ پر بہے مگر انسان بلندیوں پر چڑھتا ہے اور بہاؤ کے الٹے رخ پر سفر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

انسان کے لیے اس دنیا میں رزق کا شاہانہ انتظام کیا گیا ہے۔ درخت کے پتے شمسی انرجی کو کیمیائی انرجی میں تبدیل کرتے ہیں تا کہ اس سے انسان کی غذا تیار ہو۔ جانور گھاس کھاتے ہیں تاکہ اس کو انسان کے لیے دودھ اور گوشت کی شکل میں لوٹائیں ۔ مکھیاں رات دن سرگرم رہتی ہیں تاکہ وہ دنیا بھر کے پھولوں کا رس چوس کر انسان کے لیے شہد کا ذخیرہ کریں ، وغیرہ وغیرہ ۔

یہ کیسا عجیب كَرَّمْنَا کامعاملہ ہے جو انسان کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ اس انعام کا تقاضا تھا کہ انسان خدا کا شکر گزار بنے۔ مگر تمام مخلوقات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جو سب سے کم خدا کا شکر ادا کرتاہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page