Tazkirul Quran (Urdu) · The Cave (Al-Kahf)

Tazkirul Quran, Qur’an 18:21

The Cave (Al-Kahf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

انسان سو سال یا اس سے بھی کم مدّت موجودہ زمین پر زندگی گزار کر مر جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ مر کر باقی رہتا ہے اور دوبارہ ایک نئی دنیامیں اٹھتا ہے جہاں اس کے لیے یا ابدی راحت ہے یا ابدی عذاب۔

یہ انسان کا سب سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے اور اس پر لوگوں کے درمیان ہمیشہ بحث جاری رہی ہے۔ اس کی اسی اہمیت کی بنا پر خدا نے ایسا کیا کہ عقلی دلیل کے ساتھ اس کے حق میں حسی دلیل کا بھی انتظام فرمایا، تاکہ ’’زندگی بعد موت‘‘ کے معاملہ میں کسی کے لیے اس کی گنجائش باقی نہ رہے۔ مختلف زمانوں میں یہ حسی دلیل مختلف انداز سے دکھائی جاتی رہی ہے۔ پانچویں صدی عیسوی میں اصحاب کہف کا ’’موت‘‘ کے بعد دوبارہ غار سے نکلنا اسی قسم کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں ما فوق سائنس (meta science) کی تحقیقات بھی غالباً اُسی نوعیت کی مثالیں ہیں، جن سے زندگی بعد موت کا نظریہ حسی معیار استدلال پر ثابت ہوتاہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page