Tazkirul Quran, Qur’an 18:22
The Cave (Al-Kahf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اصحاب کہف دو سوسال ( یا اس سے زیادہ مدت کے بعد) جب غار سے نکلے تو ان کے شہر کی دنیا بالکل بدل چکی تھی۔ غالباً 250 ء میں وہ اپنے شہر افیسس سے نکل کر غار میں گئے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں بت پرست حکمراں ڈیسیس کی حکومت تھی۔ اس درمیان میں مسیحی مبلغین کی کوششوں سے رومی بادشاہ قسطنطین (272-337ء) عیسائی ہوگیا اور اس کے بعد سارے رومی علاقہ میں عیسائی مذہب پھیل گیا۔ 447 ء میں جب اصحاب کہف دوبارہ اپنے شہر میں واپس آئے تو ان کے شہر میں عیسائیت کا غلبہ ہوچکا تھا۔
جب یہ ساتوں نوجوان غار سے باہر آئے اور شاہی خزانہ میں محفوظ ان کے نام کی تختی، نیز دوسرے قرائن سے تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو بت پرستی کے دور میں اپنے مسیحی عقائد کی خاطر شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ فوراً لوگوں کی عقیدت کا مرکز بن گئے۔ نیا رومی حکمراں تھیوڈوسیس خود ان سے ملنے او ر ان کی برکت لینے کے لیے پیدل چل کر ان کے پاس آیا،اور جب ان نوجوانوں کا انتقال ہوا تو ان کی یاد گار کے طور پر ان کے غار کے اوپر ایک عبادت خانہ تعمیر کیاگیا۔
اصحاب کہف کے بارے میں کچھ لوگ غیر ضروری بحثوں میں مبتلا تھے۔ کسی نے کہا کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔
مگر اس قسم کی بحثیں مزاج کی خرابی کی علامت ہیں۔ جب دینی روح زندہ ہو تو سارا زور اصل حقیقت پر دیا جاتا ہے۔ اور جب قوم پر زوال آتا ہے تو اصل روح پس پشت چلی جاتی ہے اور ظاہری تفصیلات بحث و مناظرہ کا موضوع بن جاتی ہیں۔ سچے خدا پرست کو چاہیے کہ وہ ان بحثوں میں نہ پڑے بلکہ اگر کوئی دوسرا شخص اس قسم کے سوالات کرے تو اس کو اجمالی جواب دے کر گزر جائے۔