Tazkirul Quran, Qur’an 24:39–40
Light (Al-Nur)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسانوں کی ایک قسم وہ ہے جس کا ذکر آیت 35 میں تھا۔ یہ وہ انسان ہے جو اپنی فطری استعداد کو زندہ رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمان کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے۔ اب آیت 39-40 میں انسانوں کی مزید دو قسموں کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تیل دعوتِ حق کی آگ سے بھڑکنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
ایک قسم وہ ہے جو کسی خود ساختہ دین پر قائم رہتی ہے۔ وہ جھوٹی تمناؤں کا ایک محل بناکر اس میں خوش رہتی ہے۔ یہ لوگ اسی طرح خوش گمانیوں میں پڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت آتی ہے تو ان کی خوش گمانیوں کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔ اور پھر اچانک انھیں معلوم ہوتا ہے کہ جس چیز کو وہ منزل سمجھے ہوئے تھے وہ ہلاکت کے گڑھے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔
دوسری قسم وہ ہے جو کھلم کھلا منکروں اور باغیوں کی ہے۔ یہ لوگ خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر بطور خود ہدایت وضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ سراسر ناکام رہتے ہیں۔ کیوں کہ اس دنیا میں ہدایت دینے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں۔ خدا کو چھوڑنے کے بعد آدمی کے حصہ میں اس کے سوا کچھ نہیں رہتا کہ وہ ابدی طورپر اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔