Tazkirul Quran, Qur’an 24:41–42
Light (Al-Nur)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان سے خدا کا جو مطالبہ ہے اس کو لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہے کہ انسان ویسا ہی رہے جیسا کہ از روئے حقیقت اسے رہنا چاہیے۔ یہی دین حق ہے۔ اس اعتبار سے ساری کائنات دین حق پر ہے۔ کیوں کہ اس کائنات کی ہر چیز عین اسی طرح عمل کرتی ہے جیسا کہ فی الواقع اسے عمل کرنا چاہیے۔ انسان کے سوا اس کائنات میں کوئی بھی چیزنہیں جس کے عمل میں اور حقیقت واقعہ میں کوئی ٹکراؤ ہو۔
انھیں بے شمار چیزوں میں سے ایک مثال چڑیا کی ہے۔ چڑیا جب اپناپر پھیلائے ہوئے فضا میں اڑتی ہے تو وہ اسی حقیقت کا ایک کامل نمونہ ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا وہ ابدی حقیقت کی دنیا میں کامل موافقت کرکے تیر رہی ہو۔ گویا اس نے اپنے انفرادی وجود کو حقائق کے وسیع تر سمندر میں گم کردیا ہو۔
ہر ایک کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہی اس سے مطلوب ہے۔ اسی طرح انسان کی ایک تسبیح ِخداوندی ہے اور وہ اس سے مطلوب ہے۔ انسان اگر اس معاملہ میں غفلت یا سرکشی کا رویہ اختیار کرے تو اس وقت اس کو اس کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جب خدا کے ساتھ اس کا سامنا پیش آئے گا۔