Tazkirul Quran (Urdu) · Light (Al-Nur)

Tazkirul Quran, Qur’an 24:43–44

Light (Al-Nur)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہاں دنیا کے چند واقعات کو بطور تمثیل ذکر کرکے کہاگیا ہے کہ اس میں اہل بصیرت کے لیے عبرت ہے۔ عبرت کے اصل معنی ہیں عبور کرنا، طے کرنا۔ اس سے مراد وہ ذہنی سفر ہے جب کہ آدمی ایک چیز سے دوسری چیز تک پہنچتا ہے۔ جب آدمی ایک واقعہ کو حقیقت سے لنک (link) کرتاہے۔ جب وہ ایک ظاہری چیز کے اندر اس کے معنوی پہلو کو دیکھ لیتا ہے تو اسی کا نام عبرت ہے۔

بارش کو دیکھیے زمین سے لے کر سورج تک ایک عظیم ہم آہنگ عمل کے نتیجہ میں وہ چیز وجودمیں آتی ہے جس کو بارش کہتے ہیں۔ پھر یہ بادل کبھی زندگی بخش مینھ لاتے ہیں اور کبھی انھیں بادلوں سے ہلاکت خیز اولے برسنے لگتے ہیں۔ یہی معاملہ بجلی کی چمک اور رات اور دن کی گردش کا ہے۔ ان ظاہری واقعات میں بے شمار معنوی حقائق چھپے ہوئے ہیں، جو لوگ ان کو دیکھ کر ظاہر کومعنی سے مربوط کر سکیں وہی خدا کی نظر میں بصیرت والے ہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page