Tazkirul Quran, Qur’an 26:75–82
The Poets (Al-Shu‘ara’)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
انسان ایک مستقل ہستی کے طورپر دنیا میں آتاہے۔ اس کے اندر عقل ہے جو خیر اور شر میں فرق کرتی ہے، جو جزئیات سے کلیات اخذ کرتی ہے اور محسوسات سے معقولات تک پہنچ جاتی ہے۔ آدمی کے لیے یہاں نہایت اعلیٰ درجہ پر وہ چیزیں موجود ہیں جو اس کو مسلسل رزق فراہم کرتی ہیں۔ آدمی بیمار ہوتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں وہ اسباب بھی مکمل طورپر موجود ہیں جن سے فن علاج وجود میں آسکے۔ پھر آدمی دیکھتاہے کہ بظاہر ساری آزادی کے باوجود وہ موت کے سامنے بے بس ہے۔ وہ ایک خاص عمر کو پہنچ کر مرجاتاہے۔
ان واقعات کا تعلق ایک خدا کے سوا کسی اور سے نہیں ہوسکتا، پھر کیسے جائز ہے کہ ایک خداکے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں آدمی کو حد درجہ سنجیدہ ہونا چاہیے ۔ کیوں کہ یہی واقعات یہ اشارہ بھی کررہے ہیں کہ جو خدا یہ سب کررہاہے وہ انسان سے حساب لینے کے لیے اس کو ایک روز اپنے یہاں بلائے گا۔ موت اسی بلاوے کے عمل کا آغاز ہے۔