Tazkirul Quran (Urdu) · The Family of ‘Imran (Al-‘Imran)

Tazkirul Quran, Qur’an 3:81–91

The Family of ‘Imran (Al-‘Imran)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

اللہ کو پانا ایک ابدی حقیقت کو پانا ہے،یہ پوری کائنات کا ہم سفر بننا ہے۔ اطاعتِ الہٰی پوری کائنات کا دین ہے، انسان کا بھی اور دوسری موجودات کا بھی۔فرق یہ ہے کہ دوسری موجودات سے تسخیری (جبری) اطاعت مطلوب ہے، اور انسان سے اختیارانہ اطاعت (submission by choice)۔یعنی جس اصول کی پیروی حیوان جبلت (instinct) کے تحت مجبورانہ طور پر کررہے ہیں ، اس دین کی پیروی انسان کو اختیارانہ طور پر کرنا ہے۔ اسی کا نام اسلام ہے۔ اسلام کا مطلب دراصل آزادانہ فیصلے کے تحت دینِ فطرت کی پیروی کرنا ہے یعنی اپنے آپ کو اللہ کی مرضی کا پابند بنانا۔

جو لوگ دریافت کی سطح پر اللہ کو پالیں وہ ہر قسم کے تعصبات سے اوپر اٹھ جاتے ہیں ۔ وہ حق کو ہر حال میں پہچان لیتے ہیں ، چاہے اس کا پیغام ’’اسرائیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے بلند ہو یا ’’اسماعیلی پیغمبر‘‘ کی زبان سے۔ مگر جو لوگ گروہ پرستی کی سطح پر جی رہے ہوں، حق ان کو حق کی صورت میں صرف اس وقت نظر آتا ہے جب کہ وہ ان کے اپنے گروہ کے کسی فرد کی طرف سے آئے۔ اللہ اگر ان کے گروہ سے باہر کسی شخص کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لیے اٹھائے تو ایسا پیغام ان کے ذہن کا جزء نہیں بنتا۔ حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب کہ ان کا دل اس کے حق وصداقت ہونے کی گواہی دے رہا ہو۔ ایسے لوگ خواہ اپنے کو ماننے والوں میں شمار کریں مگر اللہ کے یہاں ان کا نام نہ ماننے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ انھوں نے حق کو اپنے گروہ کی نسبت سے جانا، نہ کہ اللہ کی نسبت سے۔ ایسے حق کا اقرار نہ کرنا جس کے حق ہونے پر آدمی کے دل نے گواہی دی ہو، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ ایسے لوگ آخرت میں اتنے ذلیل ہوں گے کہ اللہ اور اس کی تمام مخلوقات ان پر لعنت کریں گی۔

اپنے سے باہر ظاہر ہونے والے حق کاا عتراف نہ کرنا بظاہر اپنے ایمان کو بچانا ہے۔ مگر حقیقۃً یہ اپنے ایمان کو برباد کرنا ہے۔ اللہ کا مومن بندہ اللہ کے مسلسل فیضان پر جیتا ہے۔ پھر جو شخص اپنے کو خود پرستی اور گروہ پرستی کے خول میں بند کرلے اس کے اندر اللہ کا فیضان کس راستہ سے داخل ہوگا۔ اور اللہ کے فیضان سے محرومی کے بعد وہ کیا چیز ہوگی جو اس کے ایمان کی پرورش کرے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page