Tazkirul Quran (Urdu) · The Family of ‘Imran (Al-‘Imran)

Tazkirul Quran, Qur’an 3:92–99

The Family of ‘Imran (Al-‘Imran)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قدیم آسمانی کتب کو ماننے والے علما نے بطورِ خود جو فقہ بنا رکھی تھی اس میں اونٹ اور خرگوش کا گوشت کھانا حرام تھا، جب کہ اسلام میں وہ جائز تھا۔ اب وہ لوگ یہ کہتے تھے کہ اسلام اگر خدا کا اترا ہوا دین ہے تو اس میںبھی حرام وحلال کے مسائل وہی کیوں نہیں ہیں جو پچھلے زمانہ میں اتارے ہوئے خدا کے دین میں تھے۔ اسی طرح وہ کہتے کہ بیت المقدس اب تک تمام انبیاء کا قبلۂ عبادت رہا ہے۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا ایسا دین اتارے جس میں اس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔

حق کی دعوت جب اپنی خالص شکل میں اٹھتی ہے تو ان لوگوں پر اس کی زد پڑنے لگتی ہے جو خدا کے دین کے نام پر اپنا ایک عوامی دین رائج کیے ہوئے ہوں۔ ایسے لوگ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو دعوتِ حق سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے اعتراضات نکالتے ہیں۔ ان کے خود ساختہ دین میں اساسات دین پر زور باقی نہیں رہتا۔ اس کے بجائے جزئیاتِ دین میں موشگافیوں سے دین دار ی کا ایک ظاہری ڈھانچہ بن جاتا ہے۔ آدمی کی حقیقی زندگی کیسی ہی ہو، نیکی اور تقویٰ کا کمال یہ سمجھا جانے لگتا ہے کہ وہ اس ظاہری ڈھانچہ کا خوب اہتمام کرے۔ وہ ’’خرگوش‘‘کو یہ کہہ کر نہ کھائے کہ ہمارے اکابر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ دوسری طرف کتنی ہی حرام چیزوں کو اپنے لیے جائز کیے ہوئے ہو۔ وہ’’بیت المقدس‘‘ کی طرف رخ کرنے میں قطب نما کی سوئی کی طرح سیدھا ہوجانا ضروری سمجھتا ہو۔ مگر صبح وشام کی سرگرمیوں کو خدا رخی بنانے سے اس کو دل چسپی نہ ہو۔ مگر نیکی کادرجہ کسی کو قربانی سے ملتا ہے ،نہ کہ سَستی ظاہر داریوں سے۔ خدا کا نیک بندہ وہ ہے جو اپنی محبت کا ہدیہ اپنے رب کو پیش کرے، جس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دنیا کی کوئی چیز عزیز تر نہ رہے۔ حق کو ماننے کے لیے جب وقار کی قیمت دینی ہو، اللہ کے راستہ میں بڑھنے کے لیے جب مال خرچ کرنا ہو اور بچوں کے مستقبل کو خطرہ میں ڈالنا پڑے، اس وقت وہ اللہ کی خاطر سب کچھ گوارا کرلے۔ ایسے نازک مواقع پر جو شخص اپنی محبوب چیزوں کو دے کر اللہ کو لے لے وہی نیک اور خدا پرست بنا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page