Tazkirul Quran (Urdu) · The Creator (Fatir)

Tazkirul Quran, Qur’an 35:32–35

The Creator (Fatir)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں ان کے اندر زوال آگیا، اور وہ اس قابل نہ رہے کہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں ۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنواسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں ۔

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔

قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔

اہل جنت کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ اللہ کا شکر ہے، جس نے ہم سے حزن کو ختم کردیا۔ دنیا میں غم و حزن کا تجربہ آخرت کے معاملہ کا ایک تعارف ہے۔دنیا میں حزن کبھی ختم نہیں ہوتا۔ آخرت میں خدا اپنے کمال قدرت سے اہل جنت کے لیے حزن کو ختم کردےگا۔ اس کے بعد خدا کی ابدی جنت لازوال خوشیوں کی آرام گاہ بن جائے گی۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page