Tazkirul Quran, Qur’an 38:30–33
Sad (Sad)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام ایک عظیم سلطنت کے حکمراں تھے۔ ایک روز ان کی فوج کے اصیل اور تربیت یافتہ گھوڑے ان کے سامنے لائے گئے۔ پھر ان کی دوڑ ہوئی۔ یہاں تک کہ گھوڑے دوڑتے ہوئے دور کے منظر میں گم ہوگئے۔ اورپھر وہ دوبارہ واپس آئے۔
اس قسم کا منظر ہمیشہ نہایت شان دار ہوتا ہے۔ ان کو دیکھ کر عام انسان فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مگر حضرت سلیمان کا حال یہ ہوا کہ وہ اس پرُ فخر منظر کو دیکھ کر خدا کو یاد کرنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے یہ گھوڑے اپنی شان دکھانے کےلیے پسند نہیں کیے ہیں بلکہ صرف خدا کےلیے پسند کیے ہیں۔ گھوڑے کی شکل میں انھیں خدا کی عظیم کاریگری نظر آئی۔ اور وہ خدا کی عظمت کے اعتراف کے طورپر گھوڑوں کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے — مومن ہر چیز میں خدا کی شان دیکھتا ہے اور غیر مومن ہر چیز میں اپنی شان۔