Tazkirul Quran, Qur’an 38:34–40
Sad (Sad)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ہر انسان سے کوتاہی ہوتی ہے۔ مگر خدا کے نیک بندوں کےلیے کوتاہی ایک عظیم بھلائی بن جاتی ہے کیونکہ وہ کوتاہی کے بعد اور زیادہ خشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف پلٹتے ہیں اور پھر اور زیادہ انعام کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام سے بھی ایک موقع پر کوئی اجتہادی انداز کی کوتاہی ہوگئی۔ جب آپ پر حقیقت واضح ہوئی تو آپ شدیداِنابت کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے درگزر فرمایا اور مزید یہ انعام کیا کہ آپ کو عظیم سلطنت عطا فرمائی اور آپ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دئے جو کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوئے۔
’’ہم نے ہوا کواس کے تابع کردیا۔وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا۔‘‘اس حقیقت کو موجودہ زمانے میں ہوائی جہاز کے ذریعہ سمجھا جاسکتا ہے۔ ہوائی جہاز کا سفر ایک اعلیٰ ربانی تجربے کا ذریعہ ہے۔ ہوائی جہاز گویا ایک اڑتا ہوا تخت (flying throne) ہے جو ایک سنجیدہ انسان کو خدا کی اتھاہ عظمت کے تصور سے لرزا دیتا ہے۔ وہ ایک طرف، خدا کی قدرت اور دوسری طرف، اپنے عجز کا لرزہ خیز تجربہ کراتا ہے۔ یہ انسان کے اوپر اللہ تعالی کا ایک خصوصی انعام ہے جس کا نمایاں آغاز سلیمان علیہ السلام کے ذریعہ ہوا۔ پہلے گھوڑا انسانی حکم کے تحت زمین پر چلتا تھا ۔ اس کے بعد سمندری جہاز انسانی حکم کے تحت پانی پر چلنے لگے۔ اب میکا نیکل دور میں کار انسانی حکم کے تحت سڑک پر دوڑتی ہے اور ہوائی جہاز امر انسانی کے تحت فضا میں اڑتے ہیں ۔ ایک عارف انسان جب سڑک پر دیکھتا ہے کہ ایک شخص موٹر سائیکل پر سوار ہے ۔ اور موٹر سائیکل اس کے’’امر‘‘ کے تحت اس کو ادھر سے ادھر لے جار ہی ہے تو اس کو قرآن کی آیت تَجْرِي بِأَمْرِهِ (اس کے حکم سے چلتی تھی)یاد آجاتی ہے۔ مگر وہ اس سے فخر کی غذا لینے کے بجائے تواضع اور شکر کی غذا لیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کیا تھا (النمل، 27:40)۔